خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 213 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 213

213 خطبہ جمعہ فرموده 8 مئی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم قرآن کریم میں بھی بتادی کہ ہوشیار ہو جاؤ۔اگر تم میرے بندے بننا چاہتے ہو تو شیطان سے بچ کے رہنا۔شیطان کے ورغلانے کے طریقے بظاہر تمہیں بہت اچھے نظر آئیں گے لیکن اس کا نتیجہ تمہارے حق میں اچھا نہیں ہوگا۔اس بارہ میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار جگہ مختلف حوالوں سے شیطان سے بچنے کی تلقین فرمائی ہے۔اس کے نقصانات بیان فرمائے ہیں۔ایک جگہ فرمایا کہ وَيُرِيدُ الشَّيْطَنُ اَنْ يُضِلَّهُمُ ضَلَالًا بَعِيدًا (النساء: 61 ) یعنی اور شیطان یہ چاہتا ہے کہ تمہیں خطر ناک گمراہی میں ڈال دے۔پھر فرمایا شیطان تمہیں بہت بڑے خسارے میں ڈالے گا اور تمہارا دوست بن کر تمہیں خسارے میں ڈالے گا۔پھر ایک جگہ فرمایا إِنَّ الشَّيْطَنَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌ (الاعراف: 23) یعنی یقیناً شیطان جو ہے وہ تم دونوں کا کھلا کھلا دشمن ہے۔آدم اور حوا کے حوالے سے یہ بات بیان کی گئی ہے لیکن یہ بات آدم اور حو پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ مرد اور عورتوں دونوں کو ہوشیار کیا گیا ہے کہ شیطان تم دونوں کا کھلا کھلا دشمن ہے۔اس لئے اس کے بہکاوے میں آنے سے ہوشیار رہنا۔نیک اعمال بجالاؤ۔عبادات کی طرف توجہ کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ قرآن کریم نے جو واقعات اور قصے بیان فرمائے ہیں یہ پرانی باتیں صرف ہمارے علم کے لئے ہی نہیں دوہرائی گئیں بلکہ آئندہ کے لئے پیشگوئیاں ہیں کہ آئندہ اس اس طرح ہوگا۔(ماخوذ از چشمہ معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 156 ) اس لئے اگر مومن ہو اور حقیقی مومن ہو تو ان باتوں سے ہوشیار رہو کہ یہ اب بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔زمانہ بدلنے کے ساتھ شیطان کے حملے کے طریقے بھی بدلتے رہے ہیں۔ہر نئی ایجاد اور ترقی کی طرف اٹھنے والا انسان کا جو قدم ہے جہاں اپنی خوبی سے ہمیں فائدہ پہنچا رہا ہے وہاں شیطان بھی اس کو استعمال کر رہا ہے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان تمہیں نقصان پہنچائے گا اور اس کے پیچھے چلو گے تو گمراہی کے گڑھے میں گرتے چلے جاؤ گے۔سورۃ بقرہ کی جو آیت میں نے پڑھی ہے اس میں فرمایا کہ شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے۔فقر کا معنی غربت کے بھی ہیں اور فقر کے معنی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹنے کے بھی ہیں۔اللہ فرماتا ہے کہ شیطان تمہیں فقر سے ڈراتا ہے کہ اگر یہ کام کرو گے تو تم کھڑے ہونے کے قابل بھی نہیں رہو گے۔یہ کام کرنے سے یا فلاں کام کرنے سے تم پر غربت حاوی ہو جائے گی اور اس دنیا میں جو دنیاوی ترقی کی دنیا ہے تم بہت پیچھے رہ جاؤ گے اور اگر قربانیاں کرو گے تو کبھی اپنا مقام پیدا نہیں کر سکو گے۔پس شیطان کا قربانیوں کے حوالے سے اس طریقے پر ڈرانا بھی مختلف طور پر ہے۔کبھی وہ اس بات سے ڈرائے گا کہ یہ کام کا وقت ہے اور یہ وقت تمہیں اپنی عبادت کے لئے قربان نہیں کرنا چاہئے۔کبھی مالی قربانی سے روکنے کے لئے فقر سے ڈرائے گا کہ تمہارا کام اور پیسہ اگر اس وقت نکلا تو تمہارے کاروبار میں نقصان ہوگا۔کبھی اس بات سے ڈرائے گا کہ اگر یہ رقم آج یہاں خرچ کر لی تو تمہارے بچے بھوکے رہ جائیں گے۔لیکن جو اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں وہ اس کے ڈراوے میں نہیں آتے۔