خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 212
خطبات مسرور جلد ہفتم 19 212 خطبہ جمعہ فرموده 8 مئی 2009 فرمودہ مورخہ 08 رمئی 2009ء بمطابق 08 / ہجرت 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے اسماء میں سے ایک نام الواسع بھی ہے۔اس کا مطلب ہے کہ وہ ذات جس کا رزق اس کی ساری مخلوق پر حاوی ہے اور جس کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے۔اور وہ ذات جس کا غنی ہونا ہر احتیاج پر حاوی ہے۔ایک معنی اس کے یہ بھی کئے جاتے ہیں کہ وہ ذات جو بہت زیادہ عطا کرنے والی ہے۔وہ ذات جس سے جب سوال کیا جاتا ہے تو وسیع سے وسیع تر ہوتی جاتی ہے اور بعض کے نزدیک اس کا مطلب ہے کہ وہ ذات جو ہر ایک چیز پر احاطہ کئے ہوئے ہے، ہر ایک چیز کا علم رکھتی ہے۔یہ تمام معنی قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ کی اس صفت کے حوالے سے مل جاتے ہیں۔اس وقت میں قرآن کریم کی بعض آیات پیش کروں گا جن میں خدا تعالیٰ نے بعض باتوں کی طرف مومنین کو توجہ دلاتے ہوئے انہیں اپنی صفت واسع کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔سورۃ البقرہ میں شیطان کے بندوں کو ورغلانے کے ضمن میں اللہ تعالیٰ آیت 269 میں فرماتا ہے کہ الشَّیطن يَعِدُكُمُ الْفَقْرَ وَيَأْمُرُكُمُ بِالْفَحْشَاءِ۔وَاللَّهُ يَعِدُكُمْ مَّغْفِرَةً مِّنْهُ وَفَضْلا۔وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ (البقرة: 269) شیطان تمہیں غربت سے ڈراتا ہے، تمہیں فحشاء کا حکم دیتا ہے۔جبکہ اللہ تمہارے ساتھ اپنی جناب سے بخشش اور فضل کا وعدہ کرتا ہے اور اللہ وسعتیں حاصل کرنے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔اس آیت میں خدا تعالیٰ نے دو چیزیں بیان فرمائی ہیں جو شیطان اللہ تعالیٰ سے بندوں کو دور کرنے کے لئے استعمال کرتا ہے۔ایک فقر یعنی غربت کا خوف پیدا کرنا اور دوسرے فَحْشَاء کا حکم دینا۔یہ جو فقر سے ڈرانا ہے اس کی بھی کئی قسمیں ہیں۔شیطان نے خدا تعالیٰ سے یہ کہا تھا کہ میں ہر راستے پر بیٹھ کر انسانوں کو سیدھے راستے سے ہٹانے کی کوشش کروں گا تو اس نے اس بات کو پورا کرنے کے لئے کبھی بھی کوئی راستہ نہیں چھوڑا جہاں وہ نہ بیٹھا ہو۔ہر راستے پر اس کا یہ بیٹھنا اس کی اپنی طاقت کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ خدا تعالیٰ نے اس کو اجازت دی تھی کہ ٹھیک ہے تم یہ کرنا چاہتے ہو تو کرو لیکن میں تمہارے پیچھے چلنے والوں کو جہنم سے بھر دوں گا اور یہ بات خدا تعالیٰ نے کھول کر ہمیں