خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 211
211 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده یکم مئی 2009 یہ کس قدر ز بر دست نشان ہے خدا کی طرف سے ہماری تصدیق اور تائید میں۔کیونکہ قرآن کریم میں آیا ہے وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِی الْأَرْضِ (الرعد:18) کہ جو انسانوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہر جاتا ہے۔فرمایا کہ ایک سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جیسے کہ ہمارے مخالف مشہور کرتے ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھا تو چاہئے تھا کہ فیضی نے جو لوگوں کی نفع رسائی کا کام شروع کر دیا تھا اس میں اس کی تائید کی جاتی۔لیکن اس طرح پر اس کا جو انا مرگ ہو جانا صاف ثابت کرتا ہے“۔جوانی میں فوت ہو گیا۔صاف ثابت کرتا ہے کہ اس سلسلے کی مخالفت کے لئے قلم اٹھانا لوگوں کی نفع رسانی کا کام نہ تھا کم از کم ہمارے مخالفوں کو بھی اتنا تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس کی نیت نیک ب تھی ورنہ کیا وجہ کہ خدا تعالیٰ نے اس کی تائید نہ کی اور اس کو مہلت نہ ملی کہ اس کو تمام کر لیتا یعنی کام کو پورا کر لیتا۔فرمایا ”میرے اپنے الہام میں بھی یہی ہے وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ (الرعد: 18) - تمیں برس سے زیادہ عرصہ ہوا کہ جب میں آپ سے سخت بیمار ہوا اس قدر شدید مجھے آپ چڑھی ہوئی تھی ( بخار چڑھا ہوا تھا) کہ گویا بہت سے انگارے سینے پر رکھے ہوئے معلوم ہوتے تھے اس اثناء میں یہ الہام ہوا۔وَإِمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ يہ جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ بعض مخالف اسلام میں لمبی عصر حاصل کرتے ہیں۔اس کی کیا وجہ ہے فرمایا کہ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ ان کا وجود بھی بعض رنگ میں مفید ہی ہوتا ہے۔دیکھوا بوجہل بدر کی جنگ تک زندہ رہا اصل بات یہ ہے کہ اگر مخالف اعتراض نہ کرتے تو قرآن شریف کے تمہیں سپارے کہاں سے آتے۔اعتراض ہوتے رہے اور اللہ تعالیٰ بعض دفعہ اعتراضوں کی وجہ سے بھی بھیجتارہا احکامات جس کے وجود کو اللہ تعالیٰ نے مفید فرمایا کہ "جس کے وجود کو اللہ تعالیٰ مفید سمجھتا ہے اسے مہلت دیتا ہے ہمارے مخالف بھی جو زندہ ہیں اور مخالفت کرتے ہیں۔ان کے وجود سے بھی یہ فائدہ پہنچتا ہے کہ خدا تعالیٰ قرآن شریف کے حقائق و معارف عطا کرتا ہے“۔( یعنی مخالفت بڑھتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے حقائق اور معارف عطا کرتا ہے ) اب فرمایا ” اب اگر مہر علی شاہ اتنا شور نہ مچا تا تو نزول مسیح کیسے لکھا جاتا۔( جونزول مسیح کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھی ہے )۔پھر فرمایا اس طرح پر جو دوسرے مذاہب باقی ہیں ان کے بقا کا بھی یہی باعث ہے تا کہ اسلام کے اصولوں کی خوبی اور حسن ظاہر ہو۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 232-233 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) دنیا میں دوسرے مذاہب باقی ہیں وہ باقی رہیں گے تو پھر اصل موازانہ ہوگا مذاہب کا اور پھر اسلام کی خوبیاں ظاہر ہونی شروع ہوں گی۔نظر آئیں گی اگر غور سے دیکھا جائے اور پر کھا جائے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی صفت النافع سے فیض پانے کی توفیق عطا فرمائے اور نافع بنے کی توفیق عطا فرمائے اور جو روحانی انقلاب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ مقدر ہے اس میں ہم بھی حصہ دار بنے والے ہوں۔الفضل انٹرنیشنل جلد 16 شماره 21 موخہ 22 مئی تا 28 مئی 2009 صفحہ 5 تا صفحه 8