خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 209
209 خطبه جمعه فرموده یکم مئی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم کی سچائی کی طرف مائل کرتی ہیں۔میں اکثر ذکر کرتا ہوں کہ روزانہ کہ ڈاک میں کئی دفعہ ایسے خط ہوتے ہیں جن میں ایسا ذکر ہوتا ہے جو ان لوگوں کو احمدیت کے پیغام ٹھنڈے جھونکے خود خدا تعالیٰ کی طرف سے پہنچتی ہیں اور عربوں میں خاص طور پر۔عربوں پر تو ویسے بھی عربی زبان کی فصاحت کی وجہ سے اور دوسرے اپنے مزاج کی وجہ سے جو شاید زبان کی وجہ سے ہی ہو۔ان کا بیان ایسا ہوتا ہے اپنی باتوں کا جب ذکر کر رہے ہوتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی راہنمائی کی تو ٹھنڈی ہواؤں کی مثالیں دیتے ہیں۔تو یہ ہیں اللہ تعالیٰ کے کام کہ بارشیں اور ہوائیں مومنوں کی تائید میں بھیجتا ہے۔پس یہ ہے ہمارا النافع خدا جو ہر آن ہمیں نفع پہنچاتا چلا جارہا ہے اور آج اس خدا کی جو رب العالمین ہے جس نے اس زمانہ میں اپنے روحانی فیض جاری رکھنے کے لئے اپنا مامور بھیجا ہے اس کی جماعت میں ہم شامل ہیں۔ہمارے مخالفین پہلے تو سختی سے ہمارے راستے روکنے اور دشمنیاں اپنی انتہاء تک پہنچانے کی کوشش کرتے تھے۔جس کے جواب میں ہم فیض رساں بنتے ہوئے ان کو وہ روحانی پھل اور فصلیں بھیجنے کی کوشش کرتے تھے جن سے فائدہ اٹھا سکیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔اور ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کی یہ دعا پہلے بھی کرتے تھے آج بھی کرتے ہیں کہ اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ (الشفاء القاضی عیاض جلد اول صفحہ 73 الاب الثانی فی تحمل اللہ تعالی له الحافل والا الحلم دار الكتب العلمیة بیروت 2002 ء ) تو اللہ تعالیٰ ان کی ہدایات کے سامان پیدا فرمائے۔لیکن ان لوگوں نے اب ایک اور طریق بھی اختیار کیا ہے کہ پہلے کم تھا اب زیادہ ہو گیا ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ احمد یو! احمدی تو نہیں کہتے ، قادیانیوں مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام کا انکار کر کے ہمارے پاس آ جاؤ تو ہم تمہیں گلے لگائیں گے۔گویا النافع خدا کے مامور کی جماعت کو چھوڑ کر ہم میں شامل ہو جاؤ جہاں سوائے فتنہ اور فساد کے اور کچھ نہیں۔ایک طرف اُمت میں ہونے کا دعویٰ ہے اور دوسری طرف اُمتیوں کی گردنیں کاٹی جارہی ہیں۔بہر حال ہمیں تو خدا تعالیٰ نے نہ صرف ہدایت دی ہے بلکہ قرآن کریم میں فرمایا ہے کہ ایسے لوگوں کو جواب دو کہ اصل ہدایت وہی ہے جو ہمارے پاس ہے نہ کہ تمہارے پاس۔اس لئے تم بھی اگر فتنہ و فساد سے بچنا چاہتے ہو تو اس مہدی کی پیروی کرو جسے خدا تعالیٰ نے بھیجا ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے قُلْ آنَدْعُوا مِنْ دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَنْفَعُنَا وَلَا يَضُرُّنَا وَنُرَدُّ عَلى أَعْقَابِنَا بَعْدَ إِذْ هَدَانَا اللهُ كَالَّذِي اسْتَهْوَتْهُ الشَّيَاطِينُ فِي الْأَرْضِ حَيْرَانَ لَهُ أَصْحَابٌ يَدْعُونَهُ إِلَى الْهُدَى ائْتِنَا قُلْ إِنَّ هُدَى اللَّهِ هُوَ الْهُدَى وَأُمِرُنَا لِمُسْلِمَ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ (الانعام :72 ) کہ تُو پوچھ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے سوا اس کو پکاریں جو نہ ہمیں فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور کیا بعد اس کے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت دے دی ہے ہم ایک ایسے شخص کی طرف اپنی ایڑیوں کے بل پھر ادیئے جائیں جسے شیطان نے حواس باختہ کر کے زمین میں حیران وسرگرداں چھوڑ دیا ہوا ہے۔اس کے ایسے دوست ہیں جو اسے ہدایت کی طرف بلاتے ہوئے پکاریں کہ ہمارے پاس آ۔تو کہہ دے کہ یقینا اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہدایت ہی اصل ہدایت ہے اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم رب العالمین کے فرمانبردار ہو جائیں۔