خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 208
208 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده یکم مئی 2009 نے پیدا کیا تمہارے لئے ان میں گرمی حاصل کرنے کے سامان ہیں اور بہت سے فوائد ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے بھی ہو اور تمہارے لئے ان میں خوبصورتی ہے جب تم ان کو شام کو چرا کر لاتے ہوا اور جب تم انہیں چرنے کے لئے کھلا چھوڑ دیتے ہو۔پھر ان کے ذریعہ سے، انسان ان جانوروں کے ذریعے سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ان کا گوشت استعمال کر کے، اُن کی اُون استعمال کر کے ان کی کھال استعمال کر کے بلکہ ان کی ہڈیاں تک استعمال ہو جاتی ہیں جانوروں کی بعض دفعہ۔پھر یہ دولت کمانے کا ذریعہ بھی ہیں۔جانور پالے جاتے ہیں۔لوگ تجارت کرتے ہیں۔پہلی آیت سورۃ البقرہ کی جو میں نے پہلے پڑھی تھی۔اس کی وضاحت میں کر رہا ہوں۔اس میں دابة کا لفظ ہے اور یہاں انعام کا لفظ ہے۔انعام کہتے ہیں چارپایوں کو۔لیکن قرآن کریم میں ہی دآبَّہ چار پایوں کے لئے ہر قسم کے جانوروں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔پس دآبۃ سے مراد ہر قسم کے جانور ہیں۔ایک جگہ فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَيْهَا مِنْ دَابَّةٍ (احل 62) کہ اگر اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہوتی کہ لوگوں کو ان کے ارتکاب جرم پر فوراً پکڑ لیتا اور تو بہ کے لئے مہلت نہ دیتا تو زمین میں کسی جاندار کوزندہ نہ چھوڑتا۔پس اللہ تعالیٰ چونکہ فوری سزا نہیں دینا چاہتا یہ اس کا طریق نہیں کہ فوری سزادے اس لئے اس نے اس کے نفع کے لئے یہ تمام قسم کے جانور جو ہیں زمین میں چھوڑے ہیں۔جن میں چھوٹے چھوٹے حشرات بھی اور بڑے جانور بھی ہیں۔تو اللہ تعالیٰ زمین کے مردہ ہونے کے بعد زندہ کر کے اس میں ہر قسم کے جانور پھیلانے کی مثال دے کر فرماتا ہے کہ اس زندگی میں جو زمین میں ہے جانوروں کا بہت بڑا کردار ہے۔کیونکہ فرمایا کہ اگر زندگی ختم کرنی ہو تو صرف یہاں کے جو باقی حیوان ہیں ان کو ختم کر دوں تو زندگی ختم ہو جائے گی انسان کی۔پس اسی طرح فرمایا کہ روحانی دنیا میں بھی دآبۃ ہیں اور وہ ایسے مومن ہیں جو روحانی پانی سے فیض یاب ہو کر پھر زمین کی رونق قائم کرتے ہیں اور کثرت سے دنیا میں پھیل کر اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پہنچاتے ہیں۔پس یہ ایک اہم ذمہ داری لگا دی گئی ہے مامورین کی جماعت کی کہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو پھیلا کر اس دنیا کی زندگی اور رونق کے سامان پیدا کریں۔پھر ہواؤں کے بارے میں فرمایا کہ ہواؤں کو مومنوں کے لئے مسخر کر دیا گیا ہے۔چنانچہ روحانی دنیا میں بھی اسی طرح ہوتا ہے تا کہ روحانی ہواؤں سے دنیا کو فیض پہنچ سکے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل کی ہوائیں ساری دنیا میں چلاتا ہے اور اپنے مامورین کی اور ان کی جماعت کی مدد بھی ان سے فرماتا ہے۔اگر مخالفت کی آندھیاں آتی ہیں تو ان کے نقصان سے اللہ تعالیٰ بچا لیتا ہے ، مومنین کے حق میں مسخر کر دیتا ہے۔جماعت احمدیہ کی تاریخ میں ہی دیکھ لیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی سے لے کر آج تک اللہ تعالیٰ خود اپنے فضل سے مخالف ہواؤں کے رخ بدل رہا ہے۔اور نہ صرف رخ بدلتا ہے بلکہ ایسی ہوائیں چلاتا ہے جو سعید دلوں کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام