خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 189 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 189

189 خطبہ جمعہ فرموده 17 اپریل 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ، اللہ تعالیٰ نے سورہ انعام کی آیت میں فرمایا تھا کہ خود نظروں تک پہنچتا ہے اور پھر سورہ حج کی آیت میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے پانی اتارا تا کہ زمین سرسبز ہو۔یعنی روحانی پانی۔اس جگہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے اور انہیں ہر طرح کے رزق دیتا ہے لیکن فائدے میں وہی ہیں جو صرف دنیاوی رزق کی بجائے خدا تعالیٰ کے روحانی رزق کی بھی تلاش کریں۔جو روحانی رزق کی تلاش میں ہوں گے ان کو مادی رزق تو ملے گا ہی۔اس نے اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق ان کو ملنا ہے۔جیسا کہ فرماتا ہے وَيَرُزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ :(الطلاق: 4 ) اور اس کو وہاں سے رزق دے گا جہاں سے رزق آنے کا اس کو خیال بھی نہیں ہو گا۔تو مومن سے تو یہ وعدہ ہے۔پس جو روحانی رزق کی تلاش میں رہیں انہیں مادی رزق تو ملتا ہی رہے گا۔لیکن اللہ تعالیٰ پردہ پوشی کرتے ہوئے ، نرمی کا سلوک کرتے ہوئے ، غلطیوں اور گناہوں کو معاف کرتے ہوئے اپنے نور کی پہچان کرنے کی بھی اسے توفیق دے گا جو اس کے روحانی پانی کی تلاش میں ہوگا۔آخر میں اس آیت میں قوی اور عزیز کہہ کر اس بات کی طرف بھی توجہ دلا دی کہ اگر با وجود اللہ تعالیٰ کے لطیف ہونے کے اُس کی طرف توجہ نہ کی تو یا د رکھو کہ وہ قوی ہے۔طاقتور ہے اور تمام طاقتوں کا سر چشمہ ہے۔اس کی پکڑ بھی بہت سخت ہوتی ہے اور غلبہ اللہ تعالیٰ کا اور اس کے بھیجے ہوؤں کا ہی ہونا ہے۔اللہ تعالیٰ کا اپنے انبیاء سے یہ وعدہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے بھی یہ وعدہ ہے۔مخالفتیں کبھی بھی اس نو کو بجھا نہیں سکتیں۔جو جماعت اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نے قائم فرمائی ہے اس کو کوئی ختم نہیں کر سکتا کہ یہ بات بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیروں میں سے ایک تقدیر ہے اور اہل تقدیر ہے کہ اللہ اور اس کے رسول ہی غالب رہیں گے۔پس دنیا والوں کی بقا اسی میں ہے کہ اس کی صفت لطیف سے فیض پانے کے لئے کوشش کریں اور قومی اور لطیف خدا کے شیر کی جماعت کی مخالفت میں اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے محروم نہ کریں۔آج کل پاکستان میں ایک تو عمومی حالات خراب ہیں اس لئے ان کے لئے بھی دعا کے لئے کہنا چاہتا ہوں کہ پورے ملک کے حالات انتہائی خراب ہیں اور دنیا کی نظر بھی اب اس طرح اس طرف پڑ رہی ہے کہ جس طرح سب سے زیادہ دہشت گر دی اس وقت پاکستان میں ہی ہے۔لیکن بہر حال جو خبریں آتی ہیں ان سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ شدید فساد کی حالت سارے ملک میں طاری ہے اور کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔نہ احمدی اور نہ غیر احمدی۔لیکن احمد یوں کے لئے خاص طور پر اس لئے ( دعا کے لئے کہنا چاہتا ہوں ) کہ ایک تو عمومی ملکی حالات کی وجہ سے ایک پاکستانی ہونے کی وجہ سے احمدی متاثر ہو رہے ہیں۔دوسرے احمدی بحیثیت احمدی بھی آج کل بہت زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔مخالفین کی آجکل احمدیوں پر بہت زیادہ نظر ہے، نیا ابال آیا ہوا ہے اور جہاں موقع ملتا ہے اور جب موقع ملتا ہے احمدیوں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے، کوئی دقیقہ بھی نہیں چھوڑا جاتا۔