خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 188 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 188

188 خطبات مسرور جلد ہفتم خطبه جمعه فرموده 17 اپریل 2009 ہے۔گو وہ بھی اس پانی سے تھوڑا بہت فائدہ اٹھاتے ہیں۔لیکن وہ ہریالی اور سرسبزی پیدا نہیں ہوتی جو زرخیز زمینوں میں ہوتی ہے۔لیکن جو زندگی وہاں موجود ہے اس کے لئے بہر حال اس سے بھی فائدہ ہوتا ہے جب درخت پھوٹتا ہے تو اس میں سے نئی پوٹ نکلتی ہے تو اس پوٹ سے پھر نئے پتے پیدا ہوتے ہیں، پھول پیدا ہوتے ہیں۔اس کا ثمر آگے بنتا ہے ، پھل پیدا ہوتا ہے۔اسی طرح روحانی پانی کے آنے سے جو نیک دل ہیں وہ اس طرح شمر آور ہوتے ہیں۔جو مخالفین ہیں وہ بھی اپنی مخالفت کی وجہ سے اس روحانی پانی سے دنیاوی فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔ایک طرف سے سبزی جہاں انسان کو فائدہ پہنچا رہی ہوتی ہے وہاں دوسرے جانوروں اور حشرات کو بھی فائدہ پہنچاتی ہے۔اسی طرح جہاں روحانی سرسبزی زرخیز زمینوں کو فائدہ پہنچارہی ہوتی ہے وہاں جو بعض پتھر دل لوگ ہیں ان کو بھی اس روحانی پانی آنے کی وجہ سے فائدہ پہنچ رہا ہوتا ہے لیکن وہ فائدہ دنیاوی فائدہ ہوتا ہے۔اگر ہم جائزہ لیں تو جہاں جہاں ہماری جماعتیں پنپ رہی ہیں وہاں مخالفین بھی سرگرم ہیں۔سیاسی فائدے بھی اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں اور مالی فائدے بھی اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں گویا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت سے ان کے لئے روٹی کے سامان بھی پیدا ہو گئے ہیں، ان کو دنیاوی فائدے پہنچنے شروع ہو گئے ہیں۔بہر حال یہ ایک فائدہ ہے جو ہر جگہ پہنچ رہا ہوتا ہے۔اس کا اظہار بھی بعض دفعہ بعض لوگ کر دیتے ہیں۔بہر حال اللہ تعالیٰ تو جب انسانوں میں مُردنی کے آثار دیکھتا ہے تو آسمانی پانی اتارتا ہے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ فرمایا ہے کہ ”میں وہ پانی ہوں جو آسمان سے آیا وقت پر۔پس جب خدا تعالیٰ دیکھتا ہے کہ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ (الروم :42) کہ ہر طرف خشکی اور تری میں فساد برپا ہے تو نبیوں کے ذریعہ سے روحانی پانی بھیجتا ہے اور انتہائی تاریک زمانے میں آنحضرت ﷺ کو بھیج کر آپ کے ذریعہ سے وہ کامل دین اور شریعت اتاری جس نے ان لوگوں کی روحوں کو تازہ کیا اور سیراب کیا جنہوں نے فائدہ اٹھانا تھا۔اور پھر آنحضرت مے کی پیشگوئی کے مطابق ایک ہزار سال کے تاریک زمانے کے بعد جب دنیا میں دوبارہ فساد کی حالت پیدا ہوئی تو آپ کے غلام صادق کو بھیجا تا کہ جس طرح پہلے يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الروم 51) کا نظارہ دکھایا تھا اب پھر دکھائے اور ان دلوں کو تقویت پہنچائے جو اپنے دلوں میں نور حاصل کرنے کی کچی چاہت اور تڑپ رکھتے ہیں۔یہاں لطیف اور خبیر کے لفظ استعمال کر کے یہ بھی بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی باریک بین نظر جانتی ہے کہ کن لوگوں کو سچی تلاش ہے جن کے لئے روحانی پانی سے فیض اٹھانا مقدر ہے۔پھر اللہ تعالیٰ سورہ شوری کی آیت میں فرماتا ہے۔کہ اللهُ لَطِيفٌ بِعِبَادِهِ يَرْزُقُ مَنْ يَّشَاءُ وَهُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ۔(الشوری: 20) کہ اللہ اپنے بندوں کے حق میں نرمی کا سلوک کرنے والا ہے اور جسے چاہتا ہے رزق عطا کرتا ہے اور وہی بہت طاقتور اور کامل غلبے والا ہے۔