خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 184
خطبات مسرور جلد هفتم 184 خطبہ جمعہ فرموده 17 اپریل 2009 حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ ” بصارتیں اور بصیر تیں اس کی کنہ کو نہیں پہنچ سکتیں“۔(شحنه حق ، روحانی خزائن جلد نمبر 2 صفحہ 398 تمہاری نظریں، تمہارا عقل و شعور اس کی تہہ تک نہیں پہنچ سکتا۔یعنی خدا تعالیٰ کی تلاش میں اگر یہ کوشش ہو کہ وہ ہمیں نظر آ جائے تو یہ ناممکن ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ لطیف ہے۔وہ ایک ایسا نور ہے جو نظر نہیں آسکتا۔ہاں جن پر پڑتا ہے ان کو ایسا روشن کر دیتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی تائیدات اور نشانات کا اظہار کرنے والے وجود بن جاتے ہیں اور یہ نو ر سب سے زیادہ انبیاء کو ملتا ہے اور سب سے بڑھ کر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ کو یہ نور ملا۔لیکن جو آنکھوں کے اندھے تھے، جن کی بصارتیں بھی کمزور تھیں، جن کی بصیر تیں بھی کمزور تھیں انہیں یہ سب کچھ نظر نہیں آیا اور وہ آپ کے فیض سے محروم رہے۔جو بڑے بڑے عقلمند سمجھے جاتے تھے اور سرداران قوم تھے ان کو تو خدا تعالیٰ کا نور نظر نہ آیا لیکن غریب لوگ جن کی لگن اور کوشش بچی تھی، جو چاہتے تھے کہ خدا تعالیٰ کا نور ان تک پہنچے انہیں آنحضرت مے میں خدا تعالیٰ کے نور کا پر تو نظر آ گیا۔پس خدا تعالیٰ کے نور کے نظر آنے میں کسی دنیاوی عقل کسی دنیاوی تعلیم کسی دنیاوی وجاہت، بادشاہت یا رتبے کی ضرورت نہیں ہے۔بلکہ خدا تعالیٰ جو بڑی باریک بینی سے اپنی صفت لطیف کے تحت ہر دل پر نظر رکھے ہوئے ہے اور اس بات سے باخبر ہے کہ نور کی تلاش کرنے والوں کے دل میں اس تلاش کی جو چاہت ہے وہ کچی چاہت ہے تو وہ خود ایسے سامان پیدا فرما دیتا ہے کہ وہ نور اور روشنی جو انبیاء لاتے ہیں اسے نظر آ جاتی ہے اور اس کے لئے روحانیت کے سامان مہیا ہو جاتے ہیں۔چاہے دنیاوی لحاظ سے وہ شخص کچھ بھی حیثیت نہ رکھنے والا ہو۔پس اگر خواہش کچی ہو تو اللہ تعالیٰ خود اپنی صفات کے اظہار سے بندے کی ہدایت کے سامان پیدا فرما دیتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ اپنے نور کا اظہار اپنے انبیاء کے ذریعہ کرتا ہے جو اس کی توحید کے قیام کے لئے آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا نور لے کر یہ توحید کی روشنی چاروں طرف پھیلاتے ہیں اور سب سے زیادہ یہ روشنی آنحضرت ملالہ کے ذریعہ دنیا میں پہنچی کیونکہ خدا تعالیٰ کی ذات کا سب سے زیادہ ادراک انسان کامل کو ہی ہوا اور آپ اس کامل ادراک کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے رنگ میں مکمل طور پر رنگین ہوئے اور خدا تعالیٰ کی صفات کے پر تو بن گئے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک جگہ اپنے شعری کلام میں فرمایا۔کہ نور لائے آسماں سے خود بھی وہ اک نور تھے“ اور اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کے غلام صادق کو آپ کی غلامی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس نور سے منور کیا۔جیسا کہ آپ اپنے بارے میں فرماتے ہیں کہ