خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 182
خطبات مسرور جلد ہفتم 182 (16) خطبہ جمعہ فرموده 17 اپریل 2009 فرموده مورخه 17 اپریل 2009ء بمطابق 17 شہادت 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے مختلف آیات میں بعض مضامین بیان فرما کر جن میں مختلف رنگوں میں خدا تعالیٰ کی اپنے بندوں پر مہر بانیوں کا ذکر ہے اس کو اپنی صفت لطیف کے ساتھ باندھا ہے۔ان متفرق آیات اور مضامین کا میں اس وقت کچھ ذکر کروں گا لیکن اس سے پہلے لفظ لطیف کے معنوں کی وضاحت بھی کر دوں۔جو بعض لغات میں ہیں یا قرآن کریم کی آیات کی روشنی میں مفسرین نے بیان کی ہیں۔اقرب یہ لغت کی کتاب ہے۔اس میں اللطیف کا معنے لکھا ہے کہ لطف و مہربانی کرنے والا۔یہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنی میں سے بھی ہے اور تب اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ اپنے بندوں سے حسن سلوک کرنے والا۔اپنی مخلوق کو ان کے منافع۔نرمی اور مہربانی سے عطا کر کے ان سے حسن سلوک کا معاملہ کرنے والا۔بار یک در باریک اور مخفی در مخفی امور کو جاننے والا۔علامہ قرطبی نے اس لفظ کے معنے کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر لطف کرنے سے مراد نہیں اعمال حسنہ کی توفیق بخشا اور گناہوں سے بچائے رکھنا ہے۔ملاطفت یعنی حسن سلوک بھی اسی سے نکلا ہے۔پھر جنید بغدادی رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اللطيف وہ ہے کہ جس نے ہدایت کے نور سے تیرے دل کو منور کیا اور غذا کے ذریعہ تیرے بدن کی پرورش کی اور آزمائش کے وقت میں تیرے لئے اپنی ولایت رکھی ہے۔جب تو شعلوں میں پڑتا ہے تو وہ تیری حفاظت کرتا ہے اور اپنی پناہ کی جنت میں تجھے داخل کرتا ہے۔الكُرظی کہتے ہیں کہ لَطِيفٌ بِعِبَادِہ کا مطلب ہے کہ حکم دینے اور محاسبہ کرنے میں بندوں سے بہت نرمی کرنے والا۔بعض نے کہا ہے کہ اللطیف سے مراد وہ ہے جو اپنے بندوں کی خوبیاں تو شائع کرتا ہے لیکن ان کی کمزوریوں کی پردہ پوشی کرتا ہے۔اور یہی مضمون آنحضرت ﷺ کے اس قول میں بیان ہوا ہے۔کہ يَا مَنْ أَظْهَرَ الْجَمِيْلَ وَ سَتَرَ الْقَبِيحَ یعنی اے وہ خدا جو اچھی باتوں کو ظاہر کرنے والا اور نا پسندیدہ چیزوں کی پردہ پوشی کرنے والا ہے۔