خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 181 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 181

181 خطبہ جمعہ فرموده 10 اپریل 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم دیکھتا ہے صحیح فراست اور حقیقی دانش جیسا میں نے ابھی کہا کبھی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک تقویٰ میسر نہ ہو۔اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو عقل سے کام لو۔فکر کرو، سوچو۔تدبر اور فکر کے لئے قرآن کریم میں بار بار تاکید میں موجود ہیں۔کتاب مکنون اور قرآن کریم میں فکر کرو اور پار ساطع ہو جاؤ۔جب تمہارے دل پاک ہو جائیں گے اور ادھر عقل سلیم سے کام لو گے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے پھر ان دونوں کے جوڑ سے وہ حالت پیدا ہو جائے گی کہ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلًا سُبُحْنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ تمہارے دل سے نکلے گا۔اس وقت جب یہ چیزیں ہوں گی کہ تقویٰ کی راہوں پہ قدم مارو۔عقل سے کام لو، خدا تعالیٰ کی طرف جھکو۔قرآن کریم پر غور و فکر کرو تو تب حقیقت میں رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلا کا مطلب سمجھ آئے گا اور پھر دل سے یہ دعا نکلے گی سُبُحْنَكَ فَقِنَا عَذَابَ - النار اے اللہ تو پاک ہے۔ہماری غلطیوں کو معاف کر ، ہمارے گناہوں کو معاف کر۔ہمیں ہمیشہ ان راہوں پر چلا جو تیری رضا کی راہیں ہیں تا کہ ہم آگ کے عذاب سے بچتے رہیں۔فرمایا تمہارے دل سے بھی یہ آواز نکلے گی اُس وقت سمجھ آ جائے گا کہ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ صانع حقیقی کی حقانیت اور اثبات پر دلالت کرتی ہے۔یہ ہے صحیح حقیقت۔جب انسان ان باتوں کو سمجھتا ہے تب اللہ تعالیٰ جو صانع حقیقی ہے۔جو ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اس کا ثبوت تمہارے سامنے آ جائے گا۔فرمایا اس وقت سمجھ میں آ جائے گا کہ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ صانع حقیقی کی حقانیت اور اثبات پر دلالت کرتی ہے تا کہ طرح طرح کے علوم وفنون جو دین کو مدددیتے ہیں ظاہر ہوں“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 41,42 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) یہ جو علوم ہیں یہ بھی دین کی مدد کے لئے ہیں اور یہ بھی اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو عقل دی ہے اس کی وجہ سے انسان حاصل کرتا ہے۔آج سائنس میں بڑی ترقی ہے۔یہ ترقی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں پہلے بیان کر دی تھی کہ ایک وقت میں ہوگی اور انسان دنیا میں بھی ہر علم میں ترقی کرے گا لیکن اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہیں ہوسکتا۔سائنسدانوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی جب غور کرتے ہیں تو ان پر بھی ایک دفعہ ایسی کیفیت طاری ہو جاتی ہے جو الہامی کیفیت ہوتی ہے، چاہے وہ اس وقت خدا سے مانگ رہے ہوں یا نہ مانگ رہے ہوں۔محنت، توجہ اور شوق ہوتا ہے پھر ایک چیز کی لگن ہوتی ہے اور اس کے لئے پھر لاشعوری طور پر اللہ تعالیٰ سے مدد بھی مانگ رہے ہوتے ہیں۔اس وقت پھر اللہ تعالیٰ ان کے لئے راستے کھولتا ہے اور ان کو نئے راستے دکھاتا ہے۔اللہ کرے کہ ہم صحیح رنگ میں اس کے عبادت گزار بھی بنیں اور اس کی پیدائش کو دیکھ کر اس پر غور کرتے ہوئے اس کے وجود پر ایمان مضبوط سے مضبوط تر کرتے چلے جانے والے ہوں۔الفضل انٹرنیشنل جلد نمبر 16 شمارہ نمبر 18 مورخہ 1 مئی تا 7 مئی 2009 صفحہ 5 تا صفحه 6)