خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 168
خطبات مسرور جلد ہفتم 168 (14) خطبہ جمعہ فرمودہ 3 اپریل 2009 فرمودہ مورخہ 3 0 /اپریل 2009ء بمطابق 03 رشہادت 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح بلندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: قرآن کریم میں متعدد جگہ پر اس بات کا ذکر ملتا ہے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی غلطیوں کو معاف فرماتا ہے، ان سے صرف نظر فرماتا ہے اور صرف نظر فرماتے ہوئے ستاری کا سلوک فرماتا ہے۔ستاری کیا ہے؟ سَتَرَ کے معنی ہیں کسی چیز کو ڈھانپنے اور اس کی حفاظت کرنے کے۔پس ہمارا خدا وہ پیارا خدا ہے جو ہماری بے شمار خطاؤں کو اور غلطیوں کو ڈھانپتا ہے، اُن سے صرف نظر فرماتا ہے۔فوری طور پر کسی غلطی پر پکڑتا نہیں بلکہ موقع عطا فرماتا ہے کہ انسان ، ایک حقیقی مومن ، اللہ تعالیٰ کے اس سلوک سے فائدہ اٹھائے اور جو اس نے غلطیاں اور کوتا ہیاں کی ہوں ان کا احساس کرتے ہوئے اپنی اصلاح کی کوشش کرے۔نہ کہ اُن کا اعادہ کرتے ہوئے ان پر دلیر ہو جائے۔پس جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی خطاؤں اور غلطیوں کو ڈھانپتا ہے تو بندے کا بھی کام ہے کہ اپنی اصلاح کی طرف توجہ دیتے ہوئے اس کی حفاظت کے حصار میں آجائے ، جہاں پر وہ اللہ تعالیٰ کی ستاری کے نئے سے نئے جلوے دیکھے گا۔اس وقت میں چند آیات آپ کے سامنے رکھوں گا جن میں اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے حصہ لینے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بعض امور کی طرف توجہ دلائی ہے۔اللہ تعالیٰ سورۃ عنکبوت میں فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمُ سَيَاتِهِمْ وَلَنَجْزِيَنَّهُمُ اَحْسَنَ الَّذِى كَانُوا يَعْمَلُونَ (العنکبوت: 8) اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک اعمال بجالائے ہم لازما ان کی بدیاں ان سے دور کر دیں گے اور ضرور انہیں ان کے بہترین اعمال کے مطابق جزا دیں گے جو وہ کیا کرتے تھے۔یہاں اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کے بارے میں فرمایا کہ ان کی بدیاں دور کر دیں گے لَنُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَيَاتِهِمْ - لغات میں كَفَرَ کا مطلب لکھا ہے کہ پردے میں کر دینا، کسی چیز کو ڈھانک دینا اور مکمل طور پر ختم کر دینا۔یعنی ایسے لوگ جو بُرائی کرتے ہیں ان کے ساتھ ایسا سلوک کرنا جس طرح کہ انہوں نے کوئی برائی کی نہ ہو۔پس اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے۔بندہ برائی کرتا ہے تو فورانہ تو اسے پکڑتا ہے ، نہ ہی اس کی