خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 166 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 166

166 خطبه جمعه فرمودہ 27 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد هفتم اس کو بیان کر کے ڈور سلسلہ چلاتے ہیں تو گناہ کرتے ہیں۔کونسا ایسا عیب ہے جو کہ دُور نہیں ہو سکتا اس لئے ہمیشہ دعا کے ذریعہ سے دوسرے بھائی کی مدد کرنی چاہئے۔“ فرمایا کہ آنحضرت ے سے غیبت کا حال پوچھا تو فرمایا کہ کسی کی سچی بات کا اس کی عدم موجودگی میں اس طرح سے بیان کرنا کہ اگر وہ موجود ہو تو اسے بُرا لگے یہ غیبت ہے۔اور اگر وہ بات اس میں نہیں ہے اور تو بیان کرتا ہے تو اس کا نام بہتان ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا أَيُحِبُّ اَحَدُكُمُ اَنْ يَّأْكُلَ لَحْمَ أخِيهِ مَيْتًا (الحجرات: 13) اس میں غیبت کرنے کو ایک بھائی کا گوشت کھانے سے تعبیر کیا گیا ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ بات یہ ہے کہ ابھی جماعت کی ابتدائی حالت ہے۔( یہ اس وقت کا ذکر ہے لیکن اب 120 سال گزرنے کے بعد بھی ، بعض دفعہ جب زمانہ نبی سے دور چلا جاتا ہے تو پھر وہ برائیاں دوبارہ عود کرتی ہیں، پیدا ہو جاتی ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے جوں جوں جماعت کی تعداد بڑھتی جارہی ہے، مختلف قسم کے لوگ آتے جارہے ہیں۔بعض اپنی برائیوں کو بعض دفعہ صحیح طرح صاف نہیں کر سکتے۔بعض پرانے احمدی صحیح طرح دین پر قائم نہیں، تقویٰ کی روح کو نہیں سمجھنے والے ، وہ برائیاں پھیلتی چلی جاتی ہیں۔اس لئے پھر وہ دور جو ہے بڑا خطرناک دور ہے۔اس میں پھر ہمیں اپنی اصلاح کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور اس بات کو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی بڑی توجہ سے یاد کر کے اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔فرمایا کہ بعض کمزور ہیں ( جماعت میں ) جیسے سخت بیماری سے کوئی اٹھتا ہے۔بعض میں کچھ طاقت آگئی ہے۔پس چاہئے کہ جسے کمزور پادے اسے خفیہ نصیحت کرے۔اگر انسان کو حقیقی ہمدردی ہے جماعت سے اور اصلاح کرنا چاہتا ہے تو جس اپنے بھائی کو کمزور دیکھو بجائے اس کے کہ اس کی پردہ دری کرو، اس کے رازوں کو فاش کرو، اس کی برائیوں کو اچھالو، اسے نصیحت کرو۔خاموشی سے، خفیہ طور پر سمجھاؤ۔ہمدردی اور دوستی کے رنگ میں۔اگر نہ مانے تو اس کے لئے دعا کرو اور اگر دونوں باتوں سے فائدہ نہ ہو تو قضا و قدر کا معاملہ سمجھے۔جب خدا تعالیٰ نے اس کو قبول کیا ہوا ہے تو تم کو چاہئے کہ کسی کا عیب دیکھ کر سر دست جوش نہ دکھلایا جاوے۔ممکن ہے کہ وہ درست ہو جاوے“۔( جیسا کہ پہلے میں نے بتایا کہ اب جماعتی نظام بھی فعال ہو چکا ہے۔یہاں زیادہ سے زیادہ بتایا جا سکتا ہے اور پھر جماعتی نظام کا کام ہے کہ وہ بھی انتہائی راز ہی رکھتے ہوئے ایسے معاملات کو ڈیل (Deal) کریں نہ کہ دنیا کو پتہ لگتا رہے۔فرمایا کہ بہت سے چور اور زانی آخر کار قطب اور ابدال بن گئے۔جلدی اور عجلت سے کسی کو ترک کر دینا ہمارا طریق نہیں ہے۔کسی کا بچہ خراب ہو تو اس کی اصلاح کے لئے وہ پوری کوشش کرتا ہے۔ایسے ہی اپنے کسی بھائی کو ترک نہ کرنا چاہئے بلکہ اس کی اصلاح کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔قرآن کریم کی یہ تعلیم ہرگز نہیں ہے کہ عیب دیکھ کر اسے پھیلاؤ اور دوسروں سے تذکرہ کرتے پھرو۔بلکہ وہ فرماتا ہے کہ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ وَتَوَاصَوْا بِالْمَرْحَمَةِ (البلد: 18)