خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 154
154 خطبه جمعه فرموده 20 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد هفتم ہم تو دعا کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس ملک کو بچائے۔جہاں تک ملاں کی کوشش یا ارادے کا تعلق ہے کہ ان شہادتوں سے وہ احمدیت کی ترقی کو روک سکتے ہیں تو یہ ان کا خام خیال ہے۔جیسا کہ میں نے بتایا احمدیت تو ہر قدم پر دشمنی کے بعد ترقی کرتی چلی گئی ہے۔جو کشتی خدا تعالیٰ نے خود بنوائی ہے اس کی حفاظت بھی وہ خود کرے گا اور اس کا سفر انشاء اللہ تعالیٰ جاری رہے گا۔ہاں جہاں تک اِکا دُکا شہادتوں کا یا نقصان کا سوال ہے وہ تو ابتلا آتے رہتے ہیں جیسا کہ میں نے بتایا اور جو شہادت پانے والے ہیں وہ تو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق اپنی دائمی زندگی پا رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے والے بن رہے ہیں۔بہر حال احمدی بھی، خاص طور پر پاکستانی احمدی دعاؤں پر بہت زور دیں۔کیونکہ یہ ملک جس آگ کے کنارے پر کھڑا ہے وہاں سے احمدیوں کی دعائیں ہی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرتے ہوئے اس کو اس میں گرنے سے بچا سکتی ہیں۔اس ملک کی تعمیر میں بھی جماعت احمدیہ نے بہت کردار ادا کیا ہے اور اس کے بچانے میں بھی انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کی دعائیں ہی کام آئیں گی۔اللہ تعالیٰ اس کی توفیق عطا فرمائے۔جن شہید ڈاکٹر ز کا میں نے ذکر کیا تھا اب ان کے کچھ کو ائف بھی بتا دوں۔واقعہ اس طرح ہوا کہ 14 مارچ کو ڈیوٹی سے فارغ ہو کر یہ لوگ سوا تین بجے اپنے گھر پہنچے تو لگتا ہے کوئی پہلے سے وہاں چھپا ہوا تھا ، جس نے ان دونوں کو بڑی بے دردی سے شہید کیا۔دونوں اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ڈاکٹر شیر از باجوہ صاحب کی میت ان کے بیڈروم میں تھی۔ہاتھ پیچھے باندھے ہوئے تھے۔آنکھوں پر پٹی باندھی ہوئی تھی۔منہ میں روئی ٹھونسی ہوئی تھی اور گردن میں رسی کا نشان تھا یعنی پھندا ڈالا تھا۔اور کئی رسیاں بھی سرہانے پڑی تھیں۔ان کی ملازمہ جب شام کو آئی ہے تو اس نے ان کو دیکھا۔کہتی ہے پہلے ان کی جو لاش تھی وہ پنکھے سے لٹک رہی تھی اور اسی طرح جو ان کی اہلیہ ہیں ان کو ڈرائنگ میں اسی طرح باندھ کے چھوڑا ہوا تھا۔منہ میں کپڑا تھا۔دونوں، ڈاکٹر شیر از صاحب واپڈا ہسپتال ملتان میں آنکھوں کے سپیشلسٹ ڈاکٹر تھے اور ڈاکٹر نورین جو تھیں چلڈرن ہسپتال میں تھیں۔یہ دونوں ، احمدی غیر احمدی دونوں طبقوں میں بڑے ہر دلعزیز ڈاکٹر تھے۔بڑا دھیما مزاج اور ہمدردانہ رویہ رکھنے والے تھے۔یہ ان کی خاص پہچان تھی۔کچھ عرصہ انہوں نے فضل عمر ہسپتال میں بھی کام کیا ہے اور یہ کالونی ایسی ہے کہ یہاں ہر طرف سے چار دیواری تھی۔دیواروں کے اوپر باڑ لگی ہوئی تھی۔گیٹ ہے۔سیکیورٹی ہے۔اس کے باوجود اندر جا کے حملہ کرنے کا مطلب ہے کہ لازماً کوئی سازش کی گئی ہے۔کیونکہ بغیر سیکیورٹی چیک اس کالونی کے اندر کوئی جاہی نہیں سکتا تھا۔تو اس میں یہ سب شامل لگتے ہیں۔دونوں اچھے قابل لائق ڈاکٹر تھے۔1998ء میں مضمون نویسی کا کوئی مقابلہ ہوا تھا جس میں ان کی اہلیہ کو ایک بڑا اعزاز بھی ملا تھا۔کچھ عرصہ ہوا تھا کہ ان کی شادی ہوئی تھی اور ابھی ان کے بچے کوئی نہیں تھے۔بالکل نوجوان تھے جیسا کہ بتایا کہ 37 سال اور 28 سال عمر تھی۔ابھی میں انشاء اللہ تعالی نماز کے بعد ان کا جنازہ غائب بھی پڑھوں گا۔اس جنازہ غائب کے ساتھ کچھ اور جنازے بھی ہیں۔