خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 150 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 150

150 خطبه جمعه فرموده 20 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم میں سے ایک بھی نہیں جس میں مطالبہ پاکستان کی حمایت کا بعید سا اشارہ بھی موجود ہو۔اس کے برعکس یہ تحریریں جن میں کئی ممکن مفروضے بھی شامل ہیں، تمام کی تمام اس شکل کی مخالف ہیں جس میں پاکستان وجود میں آیا اور جس میں اب تک موجود ہے۔“ رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ 378 - شائع کردہ نیا زمانہ پبلیکیشنز ) مودودی صاحب کا اپنا ایک بیان ہے کہ جو لوگ یہ گمان کرتے ہیں کہ اگر مسلم اکثریت والے علاقے ہندو اکثریت سے آزاد ہو جائیں اور یہاں جمہوری نظام قائم ہو جائے تو اس طرح حکومت الہی قائم ہو جائے گی۔ان کا گمان غلط ہے۔دراصل اس کے نتیجہ میں جو کچھ حاصل ہو گا وہ صرف مسلمانوں کی کافرانہ حکومت ہو گی۔اس کا نام حکومت الہی رکھنا اس پاک نام کو ذلیل کرنا ہے۔( سیاسی کشمکش حصہ سوم طبع اول صفحہ 117۔بحوالہ جماعت اسلامی کا ماضی اور حال صفحہ 29 تا 32 اب اسی کا فرانہ حکومت کا اقتدار حاصل کرنے کے لئے جو کوششیں ہورہی ہیں ہر ایک کے سامنے ہیں۔ان بیانات اور جسٹس منیر کے تبصرے سے صاف عیاں ہے کہ پاکستان کے لئے ان لوگوں کے کیا نظریات تھے جو آج اپنے آپ کو پاکستان کا کرتا دھرتا سمجھتے ہیں۔جو بھی سیاسی حکومت آتی ہے وہ ان ملاؤں کو طاقت سمجھ کر ان سے گٹھ جوڑ کرنے کی کوشش کرتی ہے اور ملاں کے ایجنڈے پر سب سے پہلے یہ بات ہوتی ہے کہ احمدیوں کے خلاف جو کچھ ہو سکتا ہے کرو۔1953ء میں بھی فسادات ہوئے۔اُس وقت کچھ نہ کچھ انصاف پسند لوگ تھے اس لئے جو وہ کرنا چاہتے تھے اس وقت مولویوں کی خواہش پوری نہ ہو سکی۔لیکن 1974ء میں جو اس وقت کی حکومت تھی اس نے اسلام کے نام پر مولویوں کے ساتھ مل کر احمدیوں پر جو ظلم کی داستانیں رقم کی ہیں اور جو ظلم و بربریت کے نمونے دکھائے گئے ہیں آئندہ جب انصاف پسند مؤرخ آئے گا اور پاکستان کی تاریخ لکھے گا تو ایک تاریک سیاہ باب کی صورت میں یہ لکھا جائے گا۔اور پھر 1984ء میں ایک آمر نے اس قانون میں، جو 1974ء میں بنایا گیا تھا اور اسمبلی نے پاس کیا تھا، مزید ترامیم کر کے سختی پیدا کی تا کہ احمدیت کو ختم کر دے اور بڑے طمطراق سے یہ دعوی کیا کہ میں احمدیت کے اس کینسر کو ختم کر دوں گا۔نتیجہ کیا نکلا؟ کہ احمدیت تو ترقی پر ترقی کرتی چلی جارہی ہے اور ان لوگوں کا یا تو پتہ نہیں کہاں گئے یا پھر خود اللہ تعالیٰ کی تقدیر کی چکی میں آج کل پس رہے ہیں۔ان تمام ظلموں کے باوجود جو جماعت احمدیہ پر روا ر کھے گئے خلافت احمدیہ کی برکت سے ایک ہاتھ پر جمع ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے مددفرماتے ہوئے جماعت کو ان ابتلاؤں سے نکالا۔جماعت نے جو صبر کے نمونے ان حالات میں دکھائے اور آج تک دکھا رہی ہے یہ خلافت سے وابستگی کی وجہ ہے۔اور اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عہد بیعت باندھنے والوں نے اپنے عہد بیعت کو پورا کرنے کی کوشش کی ہے اور کر رہے ہیں۔