خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 149 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 149

خطبات مسرور جلد ہفتم 149 خطبه جمعه فرموده 20 مارچ 2009 یہ الگ مملکت جس کا نام پاکستان رکھا گیا اس کے لئے حضرت خلیفہ اسی الثانی اور آپ کی ہدایت پر جماعت کے افراد نے جو کوششیں کیں ان کی ایک دو مثالیں میں نے آپ کے سامنے رکھی ہیں۔تاریخ ہمیشہ اس بات پر گواہی دے گی کہ خلافت احمدیہ ہی ہے جو جماعت کے افراد کی روحانی مادی اور اخلاقی ترقی کے ساتھ ساتھ مسلم امہ کے لئے بھی بوقت ضرورت اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔چاہے وہ کشمیریوں کی آزادی کا معاملہ ہو یا فلسطین کی آزادی کا معاملہ ہے یا برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے حقوق کا معاملہ ہے۔تاریخ جو جماعت احمدیہ کی تاریخ ہے اس بات پر گواہ ہے کہ ہمیشہ جماعت احمد یہ مسلمانوں کے حقوق کے لئے صف اول میں رہی ہے۔اس کے مقابلے پر مولویوں نے کیا کردار ادا کیا ہے؟ کہتے ہیں پاکستان ہمارا ہے۔ہماری وجہ سے معرض وجود میں آیا۔ان کے ذرا بیان پڑھ لیں۔یہ بھی تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ ہے اس میں عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کے حوالے سے جو احراری لیڈر تھے لکھا ہے کہ اب تک کسی ماں نے ایسا بچہ نہیں جنا جو پاکستان کی پ بھی بنا سکے۔“ رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ 398۔شائع کردہ نیاز مانہ پبلیکیشنز ) پھر اسی رپورٹ میں لکھا ہے کہ فسادات کے دوران احراری لیڈ رامیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے لاہور میں جو تقریر میں کیں ان میں سے ایک تقریر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک بازاری عورت ہے جس کو احرار نے مجبوراً قبول کیا ہے۔إِنَّا لِلَّهِ رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ 398 - شائع کردہ نیا زمانہ پبلیکیشنز پھر لکھتے ہیں، خودشاہ صاحب کا اپنا بیان ہے کہ ”جو لوگ مسلم لیگ کو ووٹ دیں گے وہ سو رہیں اور سو رکھانے والے ہیں۔بیان عطاء اللہ شاہ بخاری بحوالہ چمنستان از مولانا ظفر علی خان صفحه 165 مطبوعہ 1944 حوالہ تعمیر وترقی پاکستان میں جماعت احمدیہ کا کردار از پروفیسر نصر اللہ راجہ صفحہ 11) پھر تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ مجلس احرار کی مجلس عاملہ کا ایک اجلاس 3 مارچ 1940ء کو دہلی میں منعقد ہوا۔اس اجلاس میں ایک قرارداد منظور کی گئی جس میں پاکستان کی تجویز کو نا پسندیدہ قرار دیا گیا اور بعد میں بعض لیڈروں نے اپنی تقریروں میں پاکستان کو پلیدستان بھی کہا۔( رپورٹ تحقیقاتی عدالت صفحہ 28 - شائع کردہ نیا زمانہ پبلیکیشنز ) پھر اسی تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ ”جماعت یعنی جماعت اسلامی مسلم لیگ کے تصور پاکستان کی علی الاعلان مخالف تھی اور جب سے پاکستان قائم ہوا ہے، جس کو نا پاکستان کہہ کر یاد کیا جاتا ہے، یہ جماعت موجودہ نظام حکومت اور اس کے چلانے والوں کی مخالفت کر رہی ہے ہمارے سامنے جماعت کی جو تحریریں پیش کی گئی ہیں ان