خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 145
خطبات مسرور جلد ہفتم 145 خطبه جمعه فرموده 20 مارچ 2009 گزشتہ خطبہ میں میں نے بلغاریہ کے نو مبائعین کا ذکر کیا تھا۔یعنی کچھ تو ان میں نئے احمدی ہیں ، کچھ چند سال پہلے احمدی ہوئے۔انہیں وہاں کے مسلمان مفتی کے کہنے پر جس کا حکومت میں بڑا عمل دخل ہے پولیس نے ہراساں کیا اور پولیس احمدیوں کو پکڑ کرسٹیشن بھی لے گئی تھی۔ان لوگوں کو جب میں نے سلام بھجوایا اور حال وغیرہ پوچھا تو مربی صاحب کہتے ہیں کہ میں نے ہر ایک سے انفرادی رابطہ کیا اور جب پیغام دیا تو ہر ایک کا یہ جواب تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم ایمان میں مضبوط ہیں۔یہ تکالیف تو کوئی چیز نہیں ہیں اور بعض تو جذباتی ہو کر رونے لگے اور میرے لئے پیغام بھجوایا کہ آپ فکر نہ کریں۔ہم جماعت کی خاطر انشاء اللہ تعالیٰ ہر تکلیف برداشت کریں گے۔ہمارے لئے صرف دعائیں کرتے رہیں۔لوگ کہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا انقلاب برپا کیا؟ یہ انقلاب نہیں تو اور کیا ہے کہ قربانی کی روح کو قرآن کریم کی تعلیم کو احمدیت قبول کرنے کے بعد حقیقی رنگ میں سمجھنے لگ گئے ہیں۔وہ فہم وادراک پیدا کر دیا ہے جس نے انہیں اس حقیقت سے آشنا کر دیا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کا قرب پانا ہے تو امتحانوں میں سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔یورپ میں رہنے والے کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے اور پھر وہ لوگ جو بڑا عرصہ کمیونزم کے زیراثر رہے ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلافت سے ان کا ایک خاص تعلق پیدا ہو گیا ہے۔جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ یہ فضل آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی جماعت میں شامل ہونے کی وجہ سے احمدیوں پر فرما رہا ہے۔اسی طرح آج کل ہندوستان کی نو مبائع جماعتوں پر بھی بہت زیادہ ظلم ہو رہا ہے اور یہ ظلم بھی وہاں حسب روایت نام نہاد ملاں کر رہے ہیں اور مُلاں کے کہنے اور اکسانے پر وہاں کے مسلمان کر رہے ہیں اور حکومت اس لئے کوئی ٹھوس قدم اٹھانے کے لئے تیار نہیں ہے کہ عنقریب وہاں انتخابات ہونے والے ہیں اور مسلمانوں کے ووٹ انہیں چاہئیں جبکہ احمدیوں کی کوئی ایسی طاقت نہیں ہے۔لیکن ان ظلم کرنے والوں کو بھی اور اس ظلم ہونے پر آنکھیں بند کرنے والوں کو بھی یہ یادرکھنا چاہئے کہ جماعت احمدیہ کے ساتھ دنیاوی طاقت تو ہے شک نہیں ہے لیکن خدا تعالیٰ جماعت احمدیہ کے ساتھ ہے۔وہ ہمارا مولیٰ ہے اور جب وہ مددکو آتا ہے تو ہر چیز کو حس راہ کی طرح اڑا کر رکھ دیتا ہے۔جب اس کی تقدیر چلتی ہے تو پھر کوئی چیز اس کے سامنے ٹھہر نہیں سکتی۔پس ہندوستان کے احمدی بھی صبر اور حو صلے سے کام لیں۔دعاؤں میں زیادہ شدت پیدا کریں اور اپنے رب کے ساتھ تعلق کو پہلے سے بڑھ کر بڑھا ئیں۔اسی طرح آج کل پاکستان میں بھی احمدیوں کی مخالفت عروج پر ہے۔حکومت اور ملاں کی حرکتوں اور کوششوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ برصغیر میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بعثت کے بعد سے مولویوں کی طرف