خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 144
144 خطبه جمعه فرموده 20 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ہم خوش قسمت ہیں جو خلافت کے ساتھ جڑے رہنے کی وجہ سے اس کشتی میں سوار ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے بنائی اور غرقابی سے بیچ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہمارے اوپر ہے۔دنیا قعر مذلت میں گرتی چلی جارہی ہے اور احمدی اپنے قادر و توانا خدا کے فضلوں کے نظارے دیکھ رہے ہیں۔1908ء سے لے کر آج تک نئے سے نئے حربوں کے ساتھ دشمن جماعت کو ختم کرنے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر بڑے ابتلاء کے بدنتائج اور دشمن کی مذموم کوششوں سے جماعت کو محفوظ رکھتا چلا جا رہا ہے اور جوں جوں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق جماعت دنیا میں پھیل رہی ہے ، حسد اور مخالفت کی آگ بھی اسی تیزی سے پھیل رہی ہے۔مخالفتیں بڑھ رہی ہیں اور جہاں جہاں نام نہاد، خود غرض علماء کہلانے والوں کا بس چلتا ہے وہ خدا کے نام پر ان ظالموں کے کرنے سے نہیں چوکتے جو احمد یوں پر کئے جاتے ہیں۔لیکن ہر مخالفت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر احمدی کے ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی سے بتایا ہوا ہے کہ مومنوں کو خدا تعالیٰ کی راہ میں تکلیفیں اٹھانی پڑیں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : قرآن شریف سے صاف پایا جاتا ہے کہ ایمان کی تکمیل کے لئے ضروری ہے کہ ابتلاء آویں جیسے فرمایا أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ (العنكبوت: 3) یعنی کیا یہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ صرف آمَنَّا کہنے سے چھوڑ دیئے جائیں گے اور وہ فتنوں میں نہ پڑیں گے۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 298 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر فرمایا: ” غرض امتحان ضروری شے ہے اس سلسلے میں جو داخل ہوتا ہے وہ ابتلاء سے خالی نہیں رہ سکتا۔ہمارے بہت سے دوست ایسے ہیں کہ وہ ایک طرف ہیں اور باپ الگ۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 258 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) یعنی احمدیت قبول کرنے کی وجہ سے ماں باپ سے بھی علیحدہ ہیں۔اور پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : ” جب سخت ابتلاء آ ئیں اور انسان خدا کے لئے صبر کرے تو پھر وہ ابتلاء فرشتوں سے جاملاتے ہیں۔اور فرمایا کہ نبیوں پر جو ابتلاء آتے ہیں اسی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ سے ملائے جاتے ہیں۔( ملفوظات جلد 5 صفحہ 305 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) فرمایا کہ بغیر امتحان ترقی محال ہے۔پس یہ ایمان میں پختگی کے لئے وہ نصائح ہیں جن کو آج بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیوں نے پکڑا ہوا ہے اور ہر احمدی اس بات کو اچھی طرح سمجھتا ہے کہ ہماری مخالفتیں ، ہماری ترقی کے لئے کھاد کا کام دیتی ہیں۔