خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 143 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 143

143 خطبه جمعه فرموده 20 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم بہر حال آپ نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق 23 مارچ 1889ء کو بیعت لی اور سینکڑوں خوش قسمت اس روز اس کشتی میں سوار ہوئے اور یہ تعداد بڑھتے بڑھتے آپ کی زندگی میں ہی لاکھوں تک پہنچ گئی اور ان بیعت کرنے والوں نے اپنی بیعت کے حق بھی ادا کئے اور اللہ تعالیٰ نے بھی اپنا ہاتھ ان پر رکھا اور وہ لوگ روحانی منازل طے کرتے چلے گئے۔اُن پر بھی مخالفت کی خوفناک اور اندھیری آندھیاں چلیں۔اپنوں اور غیروں کی دشمنی کا انہیں سامنا کرنا پڑا۔یہاں تک کہ آپ کی بیعت میں آنے کے جرم میں بعض کو شہید بھی کیا گیا۔جن میں سب سے بڑے شہید ، جن کو اذیت دے کے شہید کیا گیا، وہ صاحبزادہ سید عبداللطیف شہید ہیں۔جنہیں مولویوں کے فتوے پر بادشاہ کے حکم سے ظالمانہ طور پر پہلے زمین میں گاڑا گیا اور پھر سنگسار کر کے شہید کیا گیا اور ان واقعات نے قرونِ اولیٰ کے ان ظلموں کی یاد تازہ کر دی جو آنحضرت ﷺ کے صحابہ پر روار کھے گئے تھے۔لیکن تمام تر مخالفتوں اور ظلموں اور حکومت کو آپ کے خلاف بھڑ کانے کی سازشوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کا یہ سلسلہ ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا اور آپ کے سپر د جو کام تھے ان کی تکمیل کرتے ہوئے آخر 26 مئی 1908 ء کو آپ الہی تقدیر کے تحت اپنے مولیٰ کے حضور حاضر ہو گئے۔اور پھر جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی کے الفاظ میں فرمایا تھا کہ آپ کی جماعت کا دوسرا دور قدرت ثانیہ کی صورت میں شروع ہوگا۔جس کے بارے میں خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: غرض ( اللہ تعالیٰ) دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آ جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں۔اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں۔تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبر دست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزے کو دیکھتا ہے“۔(رسالہ الوصیت صفحہ 4-5 روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 304 پس جب یہ دوسرا دور شروع ہوا تو جیسا کہ آپ نے فرمایا تھا بعض بدقسمت شبہات میں بھی پڑ گئے اور اپنی اناؤں کے چکر میں بھی پڑ گئے۔جنہیں حضرت خلیفہ مسیح الاول نے بڑے واضح الفاظ میں سمجھا کر اصلاح کی طرف مائل کرنے کی کوشش بھی کی لیکن ان کی بدقسمتی کہ خلافت ثانیہ کے انتخاب خلافت کے موقع پر ان میں سے بعض مرتد بھی ہو گئے اور اس بات کو سمجھنے کی کوشش نہ کی کہ گرتی ہوئی جماعت کو اللہ تعالٰى يَدُ اللهِ فَوقَ أَيْدِيهِمْ کا نظارہ دکھاتے ہوئے سنبھالتا ہے۔انہوں نے باوجود عقلیں رکھنے کے یہ نہ سوچا کہ کشتی میں سوار ہو کر غرق ہونے سے وہی نجات پائے گا جو دوسری قدرت کے ساتھ جڑا ر ہے گا اور وہ دوسری قدرت کوئی انجمن نہیں بلکہ خلافت ہے۔پس آج