خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 142 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 142

خطبات مسرور جلد ہفتم 142 (12) خطبه جمعه فرموده 20 مارچ 2009 فرمودہ مورخہ 20 / مارچ 2009ء بمطابق 20 رامان 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں آج سے 120 سال پہلے اس مہینے میں، 23 مارچ کو قرآن کریم کی وہ عظیم الشان پیشگوئی پوری ہوئی جس کی اطلاع اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ہی ہے کو بڑی خوشخبری کی صورت میں عطا فرمائی تھی۔مسلم امہ کے ایک ہزار سال کے مسلسل اندھیروں میں ڈوبتے چلے جانے اور مسلمانوں کی اکثریت میں دین اسلام کا فقط نام رہ جانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے وہ چاند روشن کرنے کے بارے میں اطلاع دی تھی جس نے سراج منیر سے روشنی پانی تھی۔جس کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ تا قیامت پھر وہ روشنی پھیلاتا چلا جائے گا اور اس کا سلسلہ بھی دائمی ہوگا اور اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی عملے کی لائی ہوئی شریعت کے حُسن اور ضیاء سے اس کے تربیت یافتہ بھی ہمیشہ دنیا کے دلوں کو خوبصورتی اور روشنی بخشتے رہیں گے۔پس آنحضرت ﷺ کے اس عظیم فرزند کی قائم کردہ جماعت کا ایک دور 23 مارچ 1889ء کو شروع ہوا جب اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہام فرمایا کہ إِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللهِ وَاصْنَعِ الْفُلْكَ بِأَعْيُنِنَا وَوَحْيِنَا الَّذِينَ يُبَايِعُونَكَ إِنَّمَا يُبَايِعُونَ اللَّهَ يَدُ اللَّهِ فَوقَ أَيْدِيهِمْ ( تذکرہ صفحہ 134 ایڈیشن چہارم۔2004ء) آپ نے ازالہ اوہام میں اس کا ترجمہ یوں فرمایا کہ ” جب تو نے اس خدمت کے لئے قصد کر لیا تو خدائے تعالیٰ پر بھروسہ کر اور یہ کشتی ہماری آنکھوں کے روبرو اور ہماری وحی سے بنا۔جولوگ تجھ سے بیعت کریں گے وہ تجھے سے نہیں بلکہ خدا سے بیعت کریں گے۔خدا کا ہاتھ ہو گا جو ان کے ہاتھ پر ہو گا۔“ (ازالہ اوهام، روحانی خزائن جلد 3 صفحه (565) پھر ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ: ”اس نے اس سلسلہ کے قائم کرنے کے وقت مجھے فرمایا کہ زمین میں طوفان ضلالت بر پا ہے۔تو اس طوفان کے وقت میں یہ کشتی تیار کر۔جو شخص اس کشتی میں سوار ہوگا وہ غرق ہونے سے نجات پا جائے گا اور جو انکار میں رہے گا اس کے لئے موت در پیش ہے۔(فتح اسلام صفحہ 42-43- روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 24-25)