خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 135
135 خطبه جمعه فرموده 13 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم نشانہ بنانے سے کیا ڈراتے ہو، میرا تو ہر فعل میرے خدا کے لئے ہے اور جس کا سب کچھ خدا کا ہو جائے اس کے لئے نہ دنیاوی زندگی کی کوئی حیثیت ہے، نہ موت کی کوئی حیثیت ہے اور جیسا کہ میں نے کہا، آنحضرت ﷺ نے یہ اعلان کر کے ہمیں یہ بھی تعلیم دی کہ میرے نمونے تو یہ ہیں۔تم بھی فَاتَّبِعُونِی کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ان راستوں پر قدم مارنے کی کوشش کرو۔آج آنحضرت ﷺ کے عاشق صادق کی جماعت کو بھی ان خوفوں سے ڈرانے کی دنیا کے کئی ممالک میں کوشش کی جاتی ہے۔پاکستان میں تو ہر جگہ ہی، ہر روز کچھ نہ کچھ ہوتا رہتا ہے۔اسی طرح ہندوستان میں بھی مسلم اکثریت کے علاقوں میں احمدیوں پر ظلم کئے جا رہے ہیں، خاص طور پر نو مبائعین کو خوب ڈرایا جاتا ہے۔اور حتی کہ اب تو یہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے کہ یورپ کے ممالک میں بھی ، بلغاریہ سے پچھلے دنوں جور پورٹ آئی کہ وہاں کے مفتی کے کہنے پر احمدیوں کو ہراساں کیا گیا۔اب بلغاریہ بھی نیا نیا یورپی یونین میں شامل ہوا ہے اس علاقہ میں بھی مسلمانوں کی تعداد کافی ہے تو وہاں کے مفتی کے کہنے پر پولیس نے 7، 8 احمدیوں کو پکڑ لیا اور ان سے کافی سختی کی لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ سب ایمان پر قائم ہیں تو ہمیشہ ہر احمدی کو یہ یا درکھنا چاہئے کہ کیا کیا سختیاں ہیں یا تھیں جو آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ پر نہیں کی گئیں۔ہم پر تو اس کا عشر عشیر بھی نہیں کیا جاتا۔اگر اس اصل کو ہم سمجھ لیں کہ اپنی عبادتوں اور قربانیوں کو خالص اللہ کے لئے کر لیں اور اس بات پر قائم ہو جائیں کہ ہمارا جینا اور مرنا ہمارے خدا کے لئے ہے۔تو جہاں انفرادی طور پر ہم اپنی ابدی زندگی کے وارث ہوں گے وہاں ہر احمدی اس دنیا میں بھی ہزاروں مردہ روحوں کو زندگی بخشنے کے سامان کرنے والا ہوگا۔پس سب سے پہلے دعاؤں پر زور دیتے ہوئے اسوہ رسول ﷺ کے مطابق دنیا کی زندگی کے سامان کرنے والا ہر احمدی کو بننا چاہئے۔اگر ہمارے عمل صحیح ہوں گے ہم اس اسوہ پر چلنے والے ہوں گے تبھی ہم اپنی زندگی کے سامان کے ساتھ ساتھ دنیا والوں کی زندگی کے بھی سامان کر رہے ہوں گے۔اس اسوہ پر چلتے ہوئے جو آنحضرت ﷺ نے ہمارے لئے چھوڑا ہمیں اپنی عبادتوں کے بھی معیار قائم کرنے ہوں گے۔آپ نے عبادتوں کے کیا معیار قائم فرمائے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے، حضرت عائشہ کے حوالے سے یہ بتا دوں کہ میں نے ایک کتاب کا جو ذکر کیا اس میں بھی حضرت عائشہ کی ذات کے حوالے سے آنحضرت ﷺ پر گند اچھالنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔بہر حال حضرت عائشہ کی روایت ہے کہتی ہیں کہ عورت ذات ہونے کی وجہ سے ٹھیک ہے کہ آپ کو ایک محبت اور پیار تھا لیکن آپ کا اصل محبوب کون تھا، حقیقی محبوب کون تھا۔یہ بتاتے ہوئے حضرت عائشہ بیان کرتی ہیں کہ ایک رات میرے ہاں حضور ﷺ کی باری تھی اور یہ باری نویں دن آیا کرتی تھی۔بہر حال کہتی ہیں کہ میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ آپ بستر پر نہیں ہیں۔میں گھبرا کر باہر صحن میں نکلی تو