خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 134
134 خطبہ جمعہ فرمودہ 13 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم یہ سب الزامات جو آپ ﷺ کی ذات پر لگائے جاتے ہیں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ہمیشہ سے آپ کی ذات بابرکات پر یہ الزام لگائے گئے۔جب آپ نے دعوی کیا اس وقت بھی کفار کا یہ خیال تھا کہ شاید کسی دنیاوی لالچ کی وجہ سے آپ نے یہ دعویٰ کیا ہے اور آپ کے چچا کے ذریعہ سے آپ کو یہ پیغام بھیجا کہ آپ ہمارے مذہب کے بارہ میں، ہمارے بتوں کے بارے میں کچھ کہنا چھوڑ دیں اور اپنے دین کی تبلیغ بھی نہ کریں اور ہم اس کے بدلے میں آپ کی سرداری بھی تسلیم کرنے کو تیار ہیں۔اپنی دنیا کی جاہ و حشمت جو ہمارے پاس ہے وہ بھی آپ کو دینے کو تیار ہیں۔اپنی دولت بھی دینے کو تیار ہیں۔عرب کی خوبصورت ترین عورت بھی دینے کو تیار ہیں تو آپ کا جواب یہ تھا کہ اگر یہ لوگ میرے دائیں ہاتھ میں سورج اور بائیں ہاتھ میں چاند بھی رکھ دیں تو تب بھی میں اپنے فرض سے باز نہیں آؤں گا۔میں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ ان کی خرابیاں ان کو بتاؤں اور ان کو سیدھے راستے پر چلاؤں۔اگر اس کے لئے مجھے مرنا ہی ہے تو پھر میں بخوشی اس موت کو قبول کرتا ہوں۔میری زندگی اس راہ میں وقف ہے اور موت کا ڈر مجھے اس کام سے روک نہیں سکتا اور نہ ہی کسی قسم کا لالچ مجھے اس سے روک سکتا ہے۔پس دنیا داروں نے تو ہمیشہ سے آپ کے اس کام کو جو آپ خدا تعالیٰ کی خاطر کر رہے تھے اور خدا تعالیٰ کے حکم سے کر رہے تھے دنیا وی اور ظاہری چیز سمجھا اور کفار نے آپ کو اس کے لئے پیشکش بھی کی اور آپ نے اس وجہ سے کفار کی ہرقسم کی پیشکش کو رد کر کے یہ واضح کر دیا کہ میں اس دنیا کی جاہ و حشمت اور دولت کا امید وار نہیں ہوں بلکہ میں تو زمین و آسمان کے خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔وہ آخری نبی ہوں جس نے تمام دنیا پر خدائے قادر و توانا اور واحد ویگانہ کا جھنڈا لہرانا ہے۔اور آپ کی اس بات کا اعلان اللہ تعالیٰ نے بھی آپ پر یہ آیت نازل کر کے کر دیا کہ قُلْ اِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ (الانعام: 163) ان سے کہہ دے کہ میری نماز اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔پس یہ تھا آپ کا مقام جو سرتا پا خدا کی محبت میں ڈوب کر آپ کو ملا تھا۔آپ کو دنیاوی جاہ و حشمت نہیں چاہئے تھی۔آپ کو تو خدائے واحد کی حکومت تمام دنیا پر چاہئے تھی اور اس کے لئے آپ نے ہر دکھ اٹھایا۔آپ نے دنیا کو بتایا کہ اگر تم ہمیشہ کی زندگی چاہتے ہو تو میری پیروی کرو اور نمازوں کے وہ حق ادا کرنے کی اور وہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کرو جس کے نمونے میں نے قائم کئے ہیں۔عبادتوں میں ڈوبنا ہی زندگی کی ضمانت ہے۔اور قربانیوں کے ذریعہ حقیقی موت سے پہلے وہ موت اپنے اوپر وار د کرو جس کے اعلیٰ ترین معیار میں نے قائم کئے ہیں اور اس وجہ سے جو موت آئے گی تو پھر ایک ابدی زندگی شروع ہوگی۔جو انسان کو خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والا بنائے گی۔پس نمازوں اور قربانیوں کی وہ معراج آپ نے حاصل کی جس نے زندگی اور موت کے نئے زاویے آپ کی ذات میں قائم فرما دیئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ سے یہ اعلان کروا دیا کہ مجھے کسی لالچ کی کیا ترغیب دیتے ہو اور مجھے کسی ظلم کا