خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 133
خطبات مسرور جلد ہفتم 133 خطبه جمعه فرمود : 13 مارچ 2009 آنحضرت نے ان کی پیدائش کا دن نہیں منایا۔بہر حال خلاصہ یہ کہ مولود کے دن جلسہ کرنا، کوئی تقریب منعقد کرنا منع نہیں ہے بشرطیکہ اس میں کسی بھی قسم کی بدعات نہ ہوں۔آنحضرت ﷺ کی سیرت بیان کی جائے۔اور اس قسم کا ( پروگرام) صرف یہی نہیں کہ سال میں ایک دن ہو۔محبوب کی سیرت جب بیان کرنی ہے تو پھر سارا سال ہی مختلف وقتوں میں جلسے ہو سکتے ہیں اور کرنے چاہئیں اور یہی جماعت احمدیہ کا تعامل رہا ہے ، اور یہی جماعت کرتی ہے۔اس لئے یہ کسی خاص دن کی مناسبت سے نہیں، لیکن اگر کوئی خاص دن مقرر کر بھی لیا جائے اور اس پہ جلسے کئے جائیں اور آنحضرت ﷺ کی سیرت بیان کی جائے بلکہ ہمیشہ سیرت بیان کی جاتی ہے۔اگر اس طرح پورے ملک میں اور پوری دنیا میں ہو تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ ہے کہ بدعات شامل نہیں ہونی چاہئیں۔کسی قسم کے ایسے خیالات نہیں آنے چاہئیں کہ اس مجلس سے ہم نے جو برکتیں پالی ہیں ان کے بعد ہمیں کوئی اور نیکیاں کرنے کی ضرورت نہیں ہے جیسا کہ بعضوں کے خیال ہوتے ہیں۔تو نہ افراط ہو نہ تفریط ہو۔پس آج میں بقیہ وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کی روشنی میں آنحضرت مے کی سیرت کے بعض پہلو بیان کروں گا تا کہ ہم بھی ان کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی کوشش کریں تبھی ہم جیسا کہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ، آنحضرت ﷺ کی پیروی کر کے خدا تعالیٰ کی محبت کو پاسکتے ہیں اور تبھی ہمارے گناہ بخشے جائیں گے تبھی ہماری دعائیں بھی قبولیت کا درجہ پائیں گی۔بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا آنحضرت ﷺ کو وسیلہ بنا کر دعا کی جاسکتی ہے؟ آپ کی سنت کی پیروی اور آپ سے محبت کا تعلق اللہ تعالیٰ کی رضا آپ کو حاصل کرنے کا وسیلہ ہی ہے۔اذان کے بعد کی دعا میں بھی یہی دعا سکھائی گئی ہے۔جو آیت میں نے پڑھی ہے اس کا کچھ حصہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے درج فرمایا تھا۔پوری آیت اس طرح ہے۔قُل اِنْ كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللهُ وَيَغْفِرُ لَكُمْ ذُنُوبَكُمُ (آل عمران : 32 ) تو کہہ دے کہ اگرتم اللہ تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو وہ بھی تم سے محبت کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔پس ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے کیا سنت قائم فرمائی؟ جن کی ہم نے پیروی کرنی ہے۔آپ کے کیا کچھ عمل تھے جو آپ نے اپنے صحابہ کے سامنے کئے اور آگے روایات میں ہم تک پہنچے۔آپ ﷺ پر دنیا والے یہ الزام لگاتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ نے دنیاوی جاہ و حشمت کے لئے حملے کئے اور ایک علاقے کوزبر کر کے اپنی حکومت میں لے آئے۔پھر آپ کی ازواج مطہرات کے حوالے سے قسم قسم کی باتیں آج کل کی جاتی ہیں۔ایسی کتابیں لکھی جاتی ہیں باتیں کہ جن کوکوئی شریف النفس پڑھ بھی نہیں سکتا۔بلکہ امریکہ میں ہی جوئی کتاب لکھی گئی ہے، اس پر کسی عیسائی نے ہی یہ تبصرہ کیا تھا کہ ایسی بیہودہ کتاب ہے کہ اس کو تو پڑھا ہی نہیں جاسکتا۔تو