خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 132 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 132

132 خطبہ جمعہ فرمود : 13 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پس اصل بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا تذکرہ میرے نزدیک جیسا کہ وہابی کہتے ہیں حرام نہیں بلکہ یہ اتباع کی تحریک کے لئے مناسب ہے۔جو لوگ مشرکانہ رنگ میں بعض بدعتیں پیدا کرتے ہیں وہ حرام ہے۔اسی طرح ایک شخص نے سوال کیا تو اس کو آپ نے خط لکھوایا اور فرمایا کہ میرے نزدیک اگر بدعات نہ ہوں اور جلسہ ہو اس میں تقریر ہو، اس میں آنحضرت ﷺ کی سیرت بیان کی جاتی ہو، آنحضرت اللہ کی مدح میں کچھ نظمیں خوش الحانی سے پڑھ کے سنائی جائیں وہاں تو ایسی مجلسیں بڑی اچھی ہیں اور ہونی چاہئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کس طرح اپنی اس عشق و محبت کی جو محفلیں ہیں ان کو سجانا چاہتے ہیں یا اس بارہ میں ذکر کرنا چاہتے ہیں، فرماتے ہیں: ” خدا فرماتا ہے اِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي ( آل عمران : 32 کہ اگر اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی کرو۔یہ قرآن کریم کی آیت ہے۔فرمایا کہ " کیا آنحضرت ﷺ نے کبھی روٹیوں پر قرآن پڑھا تھا؟ آج کل کے یہ مولوی مجلسیں کرتے ہیں۔محفلیں کرتے ہیں تو اس قسم کی بدعات کرتے ہیں کہ اس کے بعد روٹیاں تقسیم ہوتی ہیں۔قرآن پڑھا گیا تو یہ مولود کی روٹی ہے۔بڑی بابرکت روٹی ہوگئی۔تو فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ اللہ سے محبت کرنی ہے تو آنحضرت علی کی پیروی کرو اور آنحضرت مے کی اگر پیروی کرنی ہے تو کیا کہیں یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے کبھی روٹیوں پر قرآن پڑھا؟) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر آپ نے ایک روٹی پر پڑھا ہوتا تو ہم ہزار پر پڑھتے۔ہاں آنحضرت ﷺ نے خوش الحانی سے قرآن سنا تھا اور آپ اس پر روئے بھی تھے۔جب یہ آیت وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا (النساء :42 ) ( اور ہم تجھے ان لوگوں کے متعلق بطور گواہ لائیں گے۔قرآن سنا ضرور کرتے تھے اور اس پر آپ جب یہ آیت آئی کہ آپ گواہ ہوں گے تو آپ اس پر رو پڑے۔یہ رونا اصل میں آپ کی عاجزی کا انتہائی مقام اور اللہ تعالیٰ کی محبت میں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح یہ مقام آپ کو عطا فرمایا۔) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اس سے آپ روئے اور فرمایا بس کر میں اس سے آگے نہیں سن سکتا۔آپ کو اپنے گواہ گزرنے پر خیال گزرا ہوگا“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 162 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ ہمیں خود خواہش رہتی ہے کہ کوئی خوش الحان حافظ ہو تو قرآن سنیں“۔یہ ہے اتباع آنحضرت ﷺ کی۔پھر لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ہر ایک کام کا نمونہ دکھلا دیا ہے وہ ہمیں کرنا چاہئے۔سچے مومن کے واسطے کافی ہے کہ دیکھ لیوے کہ یہ کام آنحضرت ﷺ نے کیا ہے کہ نہیں ؟ اگر نہیں کیا تو کرنے کا حکم دیا ہے یا نہیں ؟ حضرت ابراہیم آپ کے جدا مجد تھے اور قابل تعظیم تھے۔کیا وجہ کہ آپ نے ان کا مولود نہ کر وایا ؟ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 162 - جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ )