خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 131
131 خطبه جمعه فرموده 13 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم مشروع امور و بدعات منشاء الہی کے خلاف ہیں۔ہم خود اس امر کے مجاز نہیں ہیں کہ آپ کسی نئی شریعت کی بنیاد رکھیں اور آج کل یہی ہورہا ہے کہ ہر شخص اپنے خیالات کے موافق شریعت کو بنانا چاہتا ہے گویا خودشریعت بناتا ہے۔اس مسئلہ میں بھی افراط و تفریط سے کام لیا گیا ہے۔بعض لوگ اپنی جہالت سے کہتے ہیں کہ آنحضرت مے کا تذکرہ ہی حرام ہے۔(نعوذ باللہ )۔یہ ان کی حماقت ہے۔آنحضرت ﷺ کے تذکرہ کو حرام کہنا بڑی بیبا کی ہے۔جبکہ آنحضرت ﷺ کی سچی اتباع خدا تعالیٰ کا محبوب بنانے کا ذریعہ اور اصل باعث ہے اور اتباع کا جوش تذکرہ سے پیدا ہوتا ہے اور اس کی تحریک ہوتی ہے۔جو شخص کسی سے محبت کرتا ہے اس کا تذکرہ کرتا ہے۔“ ہاں جو لوگ مولود کے وقت کھڑے ہوتے ہیں اور یہ خیال کرتے ہیں کہ آنحضرت اللہ ہی خود تشریف لے آئے ہیں“۔( یہ بھی ان کا ایک طریق کار ہے۔جلسہ ہوتا ہے مولود کی محفل ہو رہی ہے، اس میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔مجلس بیٹھی ہوئی ہے تقریر کرنے والا مقرر کچھ بول رہا ہے، کہتا ہے آنحضرت ﷺ تشریف لے آئے اور سارے بیٹھے ہوئے لوگ کھڑے ہو گئے ) فرمایا کہ یہ جو خیال کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ تشریف لے آئے ہیں۔یہ اُن کی جرات ہے۔ایسی مجلسیں جو کی جاتی ہیں ان میں بعض اوقات دیکھا جاتا ہے کہ کثرت سے ایسے لوگ شریک ہوتے ہیں جو تارک الصلوۃ ہیں“۔(لوگ تو ایسے بیٹھے ہوئے ہیں جو نماز بھی پانچ وقت نہیں پڑھ رہے ہوتے بلکہ بعض تو نمازیں بھی نہیں پڑھنے والے ہوتے ، عید پڑھنے والے ہوتے ہیں صرف یا صرف محفلوں میں شامل ہو جاتے ہیں )۔فرمایا کہ " کثرت سے ایسے لوگ شریک ہوتے ہیں جو تارک الصلوۃ سود خور اور شرابی ہوتے ہیں۔آنحضرت نے کو ایسی مجلسوں سے کیا تعلق؟ اور یہ لوگ محض ایک تماشہ کے طور پر جمع ہو جاتے ہیں، پس اس قسم کے خیال بیہودہ ہیں“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 159-160 حاشیہ۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) جو شخص خشک وہابی بنتا ہے اور آنحضرت ﷺ کی عظمت کو دل میں جگہ نہیں دیتا وہ بے دین آدمی ہے۔انبیاء علیہم السلام کا وجود بھی ایک بارش ہوتی ہے وہ اعلیٰ درجہ کا روشن وجود ہوتا ہے۔خوبیوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔دنیا کے لئے اس میں برکات ہوتے ہیں۔اپنے جیسا سمجھ لینا ظلم ہے۔اولیاء اور انبیاء سے محبت رکھنے سے ایمانی قوت بڑھتی ہے۔حدیث میں آیا ہے آنحضرت ﷺ نے ایک دفعہ فرمایا کہ بہشت میں ایک ایسا مقام ہوگا جس میں صرف میں ہوں گا۔ایک صحابی جس کو آپ سے بہت ہی محبت تھی یہ سن کر رو پڑا اور کہا حضور مجھے آپ سے بہت محبت ہے۔آپ نے فرمایا تو میرے ساتھ ہوگا۔خیال ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں ہوں گا تو شاید یہ صحابی وہاں نہ پہنچ سکیں فرمایا کہ اگر تجھے مجھ سے محبت ہے تو میرے ساتھ ہوگا۔(الدرالمنثور في التفسير في الماثور جلد 2 صفحہ 550 تفسیر سورۃ النساء زیر آیت 90 مطبوعہ بیروت 2001ء) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ دوسرا گروہ جنہوں نے مشرکانہ طریق اختیار کئے ہیں روحانیت ان میں بھی نہیں ہے۔قبر پرستی کے سوا کچھ نہیں“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 161 حاشیہ۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ )