خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 125
125 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم پس یہ معیار ہیں جن کی ہم سے توقع رکھی جارہی ہے۔پس تقویٰ کی راہوں پر چلنے کی کوشش اور اطاعت اور انکساری کے اعلیٰ معیار حاصل کرنے کی کوشش ہے جو ایک احمدی کو کرنی چاہئے اور یہی چیز ہے جو ایک احمدی کی اُس راستہ کی طرف راہنمائی کرے گی جو ان منزلوں کی طرف لے جاتا ہے جس کی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نشاندہی فرمائی ہے۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”ہماری جماعت اگر جماعت بننا چاہتی ہے تو اسے چاہئے کہ ایک موت اختیار کرے۔نفسانی امور اور نفسانی اغراض سے بچے اور اللہ تعالیٰ کو سب سے پر مقدم رکھے۔بہت سی ریا کاریوں اور بیہودہ باتوں سے انسان تباہ ہو جاتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 458۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) جو دکھاوے کی باتیں ہیں، فضول باتیں ہیں، بیہودہ باتیں ہیں، وہ انسان کو تباہ کر دیتی ہیں۔پس ہمیں چاہئے کہ ہم ہر وقت اپنا محاسبہ کرتے رہیں اور پھر ہمارے سامنے جو جائزے آئیں ، جو اپنی حالت نظر آئے اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔ہر ایک کا اپنا نفس اس کو اصلاح کی طرف مائل کرنے والا ہونا چاہئے۔خود اپنے جائزے لیتے رہنا چاہئے۔ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ اصلاح کی کوشش تبھی کامیاب ہو سکتی ہے جب کسی قسم کی ضد نہ ہو۔جب یہ احساس ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں شامل ہو کر میری زندگی کا ایک خاص مقصد ہے اور وہ اپنی زندگی کا پاک نمونہ دوسروں کے سامنے پیش کرنا اور خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اس کے احکامات پر عمل کرنا ہے۔اور یہی بات اپنے نفس کی اصلاح کے ساتھ دوسروں کو احمد بیت اور حقیقی اسلام سے متعارف کروانے اور ان کی راہنمائی کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے اور بنتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس بارہ میں نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: ” ہر ایک اجنبی جو تم کو ملتا ہے وہ تمہارے منہ کو تاڑتا ہے اور تمہارے اخلاق، عادات، استقامت، پابندی احکام الہی کو دیکھتا ہے کہ کیسے ہیں۔اگر عمدہ نہیں تو وہ تمہارے ذریعہ ٹھوکر کھاتا ہے۔پس ان باتوں کو یا درکھو۔پھر آپ نے ایک موقع پر فرمایا: ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 518 - جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) خدا تعالیٰ اس وقت صادقوں کی جماعت تیار کر رہا ہے۔پس ہمیں صدق کے نمونے دکھانے کی ضرورت ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 402 - جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اور صدق کیا ہے؟ اس کی وضاحت کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: جب عام طور پر انسان راستی اور راستبازی سے محبت کرتا ہے اور صدق کو شعار بنا لیتا ہے تو وہی راستی اس عظیم الشان صدق کو کھینچ لاتی ہے جو خدا تعالیٰ کو دکھا دیتی ہے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 243۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ )