خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 124
124 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 مارچ 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم بہر حال یہ دو بڑی اور اہم ذمہ داریاں ہیں جو ایک احمدی پر عائد ہوتی ہیں اور خاص طور پر پاکستانی احمدی پر کیونکہ وہاں کے حالات خراب ہیں۔اور دنیا میں جہاں جہاں بھی حالات خراب ہیں، عموماً اب تو یہی نظر آتا ہے، احمدیوں کو خاص طور پر اس طرف توجہ دینی چاہئے۔وہ احمدی جن کو اللہ تعالیٰ نے آسودہ حال بنایا ہوا ہے بعض اوقات اپنے احمدی ہونے کے مقصد کو بھول جاتے ہیں۔دنیاوی کاموں میں ضرورت سے زیادہ پڑ جاتے ہیں۔کئی شکایات آتی ہیں۔جماعتی روایات اور اسلامی تعلیمات کا خیال نہیں رکھا جاتا۔توحید کے قیام کے لئے جو سب سے اہم کام ہے اور جو انسان کا مقصد پیدائش ہے یعنی عبادت کرنا اور نمازوں کی حفاظت کرنا اس کی طرف پوری توجہ نہیں دی جاتی۔پس بڑا خوف کا مقام ہے کہ ہمارے میں سے کسی ایک کی بھی کمزوری اسے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کا مصداق نہ بنادے کہ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ (هود:47 ) کہ تیرے اہل میں سے نہیں ہے۔إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ (ھود : 47 ) کہ یقیناً اس کے عمل غیر صالح ہیں۔اللہ نہ کرے، اللہ نہ کرے، کبھی کسی بیعت میں شامل ہونے والے کا مقام خدا تعالیٰ کی نظر میں ایسا ہو۔اس بات سے خوف سے ہمارے رونگٹے کھڑے ہو جانے چائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں وہ عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے جو اس کی نظر میں صالح ہوں۔ہم اپنے زعم میں اپنے آپ کو ، اپنے خود ساختہ نیکیوں کے معیار پر پر کھنے والے نہ ہوں۔بلکہ وہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کریں جو اس زمانہ کے امام نے اپنی جماعت سے توقع رکھتے ہوئے ہمیں بتائے ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” جب تک ہماری جماعت تقویٰ اختیار نہ کرے نجات نہیں پاسکتی“۔فرمایا کہ ”خدا تعالیٰ اپنی حفاظت میں نہ لے گا“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 330 - جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ فرماتے ہیں ”خدا تعالیٰ نے اگر چہ جماعت کو وعدہ دیا ہے کہ وہ اسے اس بلا ( یہ طاعون کا ذکر ہے ) سے محفوظ ر کھے گا۔مگر اس میں بھی شرط لگی ہوئی ہے کہ لَم يَلْبِسُوا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ (الانعام: 83 ) کہ جولوگ اپنے ایمانوں کو ظلم سے نہ ملاویں گے وہ امن میں رہیں گے۔اس زمانے میں بھی بہت سی بلا ئیں منہ پھاڑے کھڑی ہیں۔قدم قدم پر کھڑی ہیں، ان سے بچنے کے لئے بھی یہی اصول ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے۔فرمایا " پھر دار کی نسبت وعدہ دیا تو اس میں بھی شرط رکھ دی کہ اِلَّا الَّذِينَ عَلَوْا مِنْ اِسْتِكْبَارٍ۔اس میں عَلَوا کے لفظ سے مراد یہ ہے کہ جس قسم کی اطاعت انکساری کے ساتھ چاہئے وہ بجانہ لاوے۔جب تک انسان حسن نیتی جس کو حقیقی سجدہ کہتے ہیں، بجانہ لاوے تب تک وہ دار میں نہیں ہے اور مومن ہونے کا دعویٰ بے فائدہ ہے“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 453۔جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) پس فرمایا کہ حقیقی اطاعت اور انکساری جو ہے جب تک وہ نہیں بجالاؤ گے، یہ سب دعوے جو ہیں غلط ہیں کہ ہم مومن ہیں ، ہم نے بیعت کی ہے۔