خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 102 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 102

102 خطبه جمعه فرموده 20 فروری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم میدان ہے جس میں اندھیرا سا ہے اور اس میں ایک شخص سیاہی مائل سبز سی وردی پہنے کھڑا ہے جس کے متعلق مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بادشاہ ہے۔پھر الہام ہوا Abdicated۔میں نے اپنے اس کشف کا ذکر 26 مئی کو کیا تھا جب لوگ حکومت برطانیہ کی کامیابی کے متعلق دعا کرنے کے لئے جمع تھے اور میں نے اس کی تعبیر یہ کی تھی کہ کوئی بادشاہ اسی جنگ میں معزول کیا جائے گا۔یا کسی معزول شدہ بادشاہ کے ذریعہ کوئی تغیر واقع ہو گا۔چنانچہ اس الہام پر ابھی تین دن نہیں گزرے تھے کہ خدا تعالیٰ نے تحکیم کے بادشاہ لیوپولڈ کو نا گہانی طور پر معزول کر دیا۔Abdicated کا مطلب یہی ہے کہ Denouncement or Default۔مطلب ہے کہ کسی اعلان کے ذریعہ سے یا عملاً اپنے فرائض منصبی کے ادا نہ کر سکنے کی وجہ سے اس کو فارغ کر دیا جائے۔گویا یا تو خود کہہ رہے ہیں کہ میں بادشاہت سے الگ ہوتا ہوں یا ایسے حالات پیدا ہو جائیں گے کہ وہ بادشاہت کے فرائض ادا نہ کر سکے۔کہتے ہیں کہ بعینہ ایسے ہوا اور حکیم گورنمنٹ نے یہ الفاظ استعمال کئے اور اس نے کہا کہ ہمارا بادشاہ جرمن قوم کے ہاتھ میں ہے اور اب وہ اپنے فرائض ادا نہیں کر سکتا۔پس اب تحکیم کی قانونی گورنمنٹ ہم ہیں نہ کہ بادشاہ۔(ماخوذ از الموعود۔انوار العلوم جلد 17 صفحہ 605-606 ) اس طرح کے بہت سارے واقعات ہیں۔پھر اپنے بارے میں کہ خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔فرمایا کہ اس بارہ میں اللہ تعالیٰ نے کس طرح نشان پورے کئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ میرا حافظ و ناصر ہوتا رہا اور دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رکھا۔آپ فرماتے ہیں کہ اب دیکھو! اللہ تعالیٰ نے کس طرح اس الہام کی صداقت میں متواتر میری حفاظت اور نصرت کی ہے۔مجھے اس وقت تک کوئی ایسا الہام نہیں ہوا جس کی بناء پر میں یہ کہ سکوں کہ میں انسانی ہاتھوں سے نہیں مروں گا۔لیکن بہر حال میں اس یقین پر قائم ہوں کہ جب تک میرا کام باقی ہے اس وقت تک کوئی نص مجھے مار نہیں سکتا۔میرے ساتھ متواتر ایسے واقعات گزرے ہیں کہ لوگوں نے مجھے ہلاک کرنا چاہا۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے ان کے حملوں سے مجھے محفوظ رکھا۔فرمایا کہ ایک دفعہ میں جلسے پر تقریر کر رہا تھا اور تقریر کرتے کرتے میری عادت ہے کہ میں گرم گرم چائے کے ایک دو گھونٹ پی لیا کرتا ہوں تا کہ گلا درست رہے کہ اسی دوران میں جلسہ گاہ میں سے کسی شخص نے ملائی کی ایک پیالی دی اور کہا کہ یہ جلدی سے حضرت صاحب تک پہنچا دیں کیونکہ حضور کو تقریر کرتے کرتے ضعف ہو رہا ہے۔چنانچہ ایک نے دوسرے کو اور دوسرے نے تیسرے کو اور تیسرے نے چوتھے کو پیالی ہاتھوں ہاتھ پہنچانی شروع کر دی۔یہاں تک کہ ہوتے ہوتے سٹیج پر پہنچ گئی۔سٹیج پر چانک کسی شخص کو خیال آ گیا اور اس نے احتیاط کے طور پر ذراسی ملائی چکھی تو اس کی زبان کٹ گئی۔تب معلوم ہوا کہ اس میں زہر ملی ہوئی ہے۔اب اگر وہ ملائی مجھ تک پہنچ جاتی اور میں خدا نخواستہ اسے چکھ بھی لیتا تو کچھ نہ کچھ اس کا اثر ضرور ہو جاتا اور تقریر رک جاتی۔(ماخوذ از الموعود - انوار العلوم جلد 17 صفحہ 628) پھر اسی طرح فرمایا کہ ایک دفعہ ایک پٹھان لڑکا آیا مچھر الے کے اور میں اس کو ملنے کے لئے نکل ہی رہا تھا کہ