خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 67
67 خطبات مسرور جلد هفتم خطبه جمعه فرموده 6 فروری 2009 اصل چیز سے ہٹ جائیں گے اور کمزوری دکھانے لگیں گے تو پھر اپنے ایمان کو بھی کمزور کرتے چلے جائیں گے۔تو کیا ہم تعداد بڑھانے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے اور اللہ اور رسول ﷺ کی پیشگوئیوں کے الٹ کوئی نیا مہدی اور مسیح پیش کرنے کی کوشش کریں گے؟۔جس طرح کہ مطالبہ کیا جاتا ہے اور یہ مطالبہ مختلف جگہوں پر یہاں بھی ، پاکستان میں بھی ہو رہا ہے۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کام نبوت کا دعویٰ ختم ہو جائے تو مسیح و مہدی ہونے کا دعویٰ بھی ختم ہو جاتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا کہ خبردار رہو کہ عیسی بن مریم یعنی مسیح موعود اور میرے درمیان کوئی نبی نہیں۔لمعجم الصغر لطبرانی من اسمه عیسی صفحہ 256 دارالکتب العلمیة بیروت لبنان) پس جب ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسی فوت ہو چکے ہیں اور اب وہ دنیا میں نہیں آ سکتے اور مثیل مسیح آنحضرت ﷺ کی امت میں سے ہی پیدا ہونا ہے تو ظاہر ہے پھر اس حدیث کی رو سے وہ نبی اللہ ہی ہے۔یا تو یہ کہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں وہ بعد میں آئیں گے۔تو ایک دفعہ جب نبی کا انکار کریں گے تو پھر اگلی بات یہی ہوگی نا کہ پھر عیسی علیہ السلام اپنے وقت پر آئیں گے اور وہ نبی ہوں گے۔اس کا مطلب ہے کہ آپ یہ بات تسلیم کر لیں گے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بھی زندہ ہیں۔جس طرح میں نے کہا کہ ایک بات سے دوسری بات پھر آپ لوگ رو کرتے چلے جائیں گے۔بہر حال جو احمدی پورا علم نہیں رکھتے ان پر یہ واضح ہونا چاہئے کہ اگر ایک بات کا انکار کریں گے تو دوسرے دعوے کا بھی انکار کرنے پڑے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کومسیح موعود کہنے سے بھی رکنا پڑے گا جیسا کہ میں نے کہا۔پھر غیر احمدیوں کی طرح اس عقیدہ پر بھی قائم ہونا پڑے گا کہ حضرت عیسی علیہ السلام زندہ آسمان پر موجود ہیں اور وہ زمین پر اتریں گے۔گو کہ حدیثوں کی رو سے جو وقت ہے وہ بھی اب گزر چکا ہے۔اس لئے بغیر خوف کے، بغیر کسی قسم کے احساس کمتری کے وہ بتائیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ ہے اور جس کا آنحضرت ﷺ نے اعلان فرمایا ہے۔آنحضرت ﷺ نے عیسی بن مریم ، آنے والے مسیح کو نبی کہا ہے کیونکہ احمدیوں کو تو یہ خوشخبری ہے کہ سچائی کے نور سے دوسروں کا منہ بند کریں گے تو پھر اس میں پریشانی کی کیا بات ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پھر ایک جگہ سورۃ فاتحہ کی آیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ: چھٹی آیت اس سورۃ کی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ہے گویا یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ چھٹے ہزار کی تاریکی آسمانی ہدایت کو چاہے گی اور انسانی سلیم فطرتیں خدا کی جناب سے ایک ہادی کو طلب کریں گی یعنی مسیح موعود کو۔تحفہ گولڑو یہ روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 284 حاشیہ) اب یہ چھٹا ہزار حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ ہے۔ہادی کو وہ طلب بھی کر رہے ہیں لیکن جس کی