خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 55 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 55

خطبات مسرور جلد ہفتم 55 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 2009 آئے گی ) اور اس طرح پر یہ خلقت جو واجب الرحم ہے وہ مُسرف کذاب سے نجات پالے گی“۔(یعنی جبکہ بابو صاحب مجھ کو کذاب خیال کرتے ہیں کہ گویا میں نے دعویٰ مسیح موعود کر کے خدا پر افتراء کیا ہے تو میں ہلاک ہو جاؤں گا اور اگر خدا تعالیٰ کے علم میں کوئی ایسا امر ہے جو اس بدظنی کے خلاف ہے تو وہ امر روشن ہو جائے گا (یعنی خدا تعالیٰ کے علم میں درحقیقت میں مسیح موعود ہوں تو خدا تعالیٰ میرے لئے گواہی دے گا ) اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ نعوذ باللہ میری طرف سے نہ کوئی آپ پر نائش ہوگی اور نہ کسی قسم کا بے جا حملہ آپ کی وجاہت اور شان پر ہوگا۔صرف خدا تعالیٰ سے عقدہ کشائی چاہوں گا ( یعنی یہ چاہوں گا کہ اگر میں مفتری نہیں ہوں اور میرے پر یہ جھوٹا اور ظالمانہ حملہ ہے تو میری بریت اور بابو صاحب کی تکذیب کے لئے خدا آپ کوئی امر نازل کرے) کیونکہ بریت کی خواہش کرنا سنت انبیاء ہے، جیسا کہ حضرت یوسف نے خواہش کی تھی۔اس پہ نشی الہی بخش صاحب اکا ؤنٹنٹ نے ایک کتاب 400 صفحات کی لکھی اور اس میں اپنے الہامات درج کئے۔جن میں سے بعض یہ ہیں۔کہتے ہیں کہ مجھے الہام ہوتا ہے کہ ”تیرے لئے سلام ہے تم غالب ہو جاؤ گے اور اس پر ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر ) غضب نازل ہوگا اور وہ ضرور ہلاک ہو جاوے گا“۔پھر یہ ہے کہ ”جیسا کہ ہزاروں مخالفین چاہتے ہیں اسی کے موافق مرزا صاحب ہلاک ہو جائیں گئے۔پھر لکھتے ہیں ” طاعون نازل ہوگی اور وہ مع اپنی جماعت کے طاعون میں مبتلا ہو جائے گا اور خدا ان ظالموں پر ہلاکت نازل کرے گا۔پھر لکھتے ہیں کہ ” جو خدمت مجھ کو سپر دہوئی ہے جب تک پوری نہ ہو تب تک میں ہرگز نہ مروں گا“۔تو یہ تھے ان کے الہامات۔بہر حال یہ کتاب عصائے موسیٰ، جو انہوں نے لکھی تھی یہ ایک چیلنج تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو الہامات درج کر کے بھجوایا۔لیکن اس کا نتیجہ کیا نکلا؟ کوئی بھی الہام جو انہوں نے کسوٹی مقرر کی تھی اس پر بھی پورا نہ اترا اور وہ خود اپنے ایک دوست کے جنازے میں شریک ہوئے۔وہیں سے ان کو طاعون کی بیماری لگی۔وہ دوست طاعون سے مرا تھا اور 1907ء میں ان کی وفات ہو گئی۔اور پھر اخباروں نے یہ لکھا کہ افسوس مصنف عصائے موسیٰ بھی طاعون سے شہید ہو گئے اور طاعون کے گیارہ سال تک حملے ہوتے رہے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی جماعت اور آپ کے گھر والے اللہ تعالیٰ کے فضل سے محفوظ رہے اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت ، حضرت مسیح موعود کی جماعت اللہ تعالیٰ کی تائیدات کے ساتھ تمام دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور کروڑوں میں پھیلی ہوئی ہے، اور ان کو پوچھنے والا کوئی بھی نہیں۔پھر آپ کے رشتہ دار ، مرزا امام دین اور مرزا نظام دین صاحب وغیرہ جو چا زاد تھے وہ بھی آپ کی دشمنی میں، اسلام کی دشمنی میں ہندوؤں کے ساتھ مل گئے تھے۔آنحضرت ﷺ کے بارہ میں بڑی دریدہ دہنی کرتے تھے بلکہ