خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 54 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 54

54 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم صاحب پر مختلف الزامات لگا دئے اور ایک تحقیقاتی کمیشن ان پر بٹھایا جس نے یہ نتیجہ نکالا کہ انہوں نے گورنمنٹ انگریزی کے خلاف بغاوت کی ترغیب دی ہے اور دوسرے بہت سارے الزامات تھے اور پھر ان سے جتنے خطابات تھے وہ سب چھین لئے گئے۔یہاں تک کہ مسلمان جو ان کو بڑا عالم سمجھتے تھے اور ان کی بڑی عزت افزائی کیا کرتے تھے انہوں نے بھی انگریزی حکومت کو کہا کہ ان کے ساتھ ایسا سلوک ہونا چاہئے یا کیا جائے۔تو یہ ان کی عزت کا حال تھا۔پھر آخر میں جب بہت مجبور ہو گئے تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں مختلف ذریعوں سے سفارشیں ہوئیں۔حضرت مسیح موعود نے دعا کی تو آپ کو پھر الہام ہوا۔سرکوبی سے اس کی عزت بچائی گئی۔بلکہ لیکھرام نے طنزیہ طور پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی لکھا تھا کہ آپ جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ آپ کی دعائیں سنتا ہے اور آپ کے ساتھ ہے اور یہ نواب صدیق حسن خان صاحب مسلمان ہیں جو آج کل بڑی بُری حالت میں ہیں اور ان کی بڑی بے عزتی ہو رہی ہے۔اگر آپ کی دعائیں اتنی قبول ہوتی ہیں تو ان کے لئے کیوں دعا نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ ان کو بچالے۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا کہ اس کا تو ایک اور معاملہ ہے لیکن پھر آپ نے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ سے ہی عزت بحال کروائی۔پھر ایک منشی الہی بخش صاحب اکا ؤنٹنٹ تھے ، یہ شروع میں تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت زیادہ عقیدتمندوں میں سے تھے اور یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاؤں دبانے کو بھی اپنی عزت سمجھتے تھے۔لیکن پھر بعد میں یہ مخالف ہو گئے اور نہایت نازیبا الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف استعمال کرنے شروع کئے۔پھر یہاں تک کہنا شروع کر دیا کہ مرزا صاحب کے الہامات محض جھوٹ ہیں اور منشی صاحب خود اپنے الہامات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بارہ میں اس لئے شائع نہیں کرتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ان کے خلاف حکومت میں کوئی مقدمہ نہ کر دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ ال والسلام نے اس پر ان کو یقین دلایا کہ آپ فکر نہ کریں۔آپ میرے بارے میں جو بھی الہامات شائع کرنا چاہتے ہیں شائع کریں۔جو بھی کہنا چاہتے ہیں کہیں۔میں قطعا آپ کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں کروں گا اور فرمایا کہ چونکہ مجھے آسمانی فیصلہ مطلوب ہے یعنی یہ مدعا ہے کہ تا لوگ ایسے شخص کو شناخت کر کے جس کا وجود حقیقت میں ان کے لئے مفید ہے، راہ راست پر مقیم ہو جائیں اور تا لوگ ایسے شخص کو شناخت کرلیں جو در حقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے امام ہے اور ابھی تک یہ کس کو معلوم ہے کہ وہ کون ہے۔صرف خدا کو معلوم ہے یا ان کو جن کو خدا تعالیٰ کی طرف سے بصیرت دی گئی ہے۔اس لئے یہ انتظام کیا گیا ہے۔(یعنی یہ کہ بابو صاحب اپنے وہ تمام الہامات جو میری تکذیب سے متعلق ہیں شائع کر دیں)۔پس اگر منشی صاحب کے الہامات در حقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں تو وہ الہام جو اُن کو میری نسبت ہوئے ہیں اپنی سچائی کا کوئی کرشمہ ظاہر کریں گے۔( یعنی ضرور ان کے بعد میرے پر کوئی تباہی اور ہلاکت الصلوة