خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 47
خطبات مسرور جلد ہفتم 5 47 خطبہ جمعہ فرمودہ 30 جنوری 2009 فرمودہ مورخہ 30 جنوری 2009ء بمطابق 30 صلح 1388 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لندن (برطانیہ) تشهد وتعوذ ا ر سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے آقا و مطاع حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی میں جو مقام حاصل کیا تھا وہ ہر احمدی پر بڑا واضح اور عیاں ہے۔جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی صفت کافی کے حوالہ سے ذکر کیا تھا کہ عشق و محبت کے اس اعلیٰ مقام کی وجہ سے جو آپ کو آنحضرت ﷺ سے تھا، آپ اللہ تعالیٰ کے انتہائی پیارے بن گئے اور آپ کے بے شمار الہامات جن میں عربی ، اُردو وغیرہ کے الہامات شامل ہیں ، اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے بعض قرآنی آیات کے حصے جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبہ میں بھی بتایا تھا آپ کو الہاما بتائے اور جماعت احمدیہ پر طلوع ہونے والا ہر دن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ آپ کے الہامات یقینا بچے اور آپ کا دعوی یقینا سچا ہے۔اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کرنے والا ، خاص طور پر نبوت کا جھوٹ منسوب کرنے والا کبھی بیچ نہیں سکتا۔اللہ تعالیٰ نے خود یہ اصول قرآن کریم میں بیان فرما دیا ہے۔جیسا کہ قرآن کریم کی سورۃ الحاقہ کی آیات میں فرماتا ہے وَلَوْتَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيلِ۔لَاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ۔ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ۔فَمَا مِنْكُمُ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حجزِينَ (الحاقة : 45-48) یعنی اور اگر وہ بعض باتیں جھوٹے طور پر ہماری طرف منسوب کر دیتا تو ہم ضرور اسے داہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے۔پھر ہم یقینا اس کی رگ جان کاٹ ڈالتے۔پھر تم میں سے کوئی ایک بھی (ہمیں ) اس سے روکنے والا نہ ہوتا۔پس یہ ایک اصولی معیار ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹ منسوب کرنے والے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی اس معیار کو اپنی سچائی کے طور پر پیش فرمایا ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ : ” صادق کے لئے خدا تعالیٰ نے ایک اور نشان بھی قرار دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کوفرمایا کہ اگر تو مجھ پر تقول کرے تو میں تیرا داہنا ہاتھ پکڑ لوں۔اللہ تعالیٰ پر تقول کرنے والا مفتری فلاح نہیں پاسکتا بلکہ ہلاک ہو جاتا ہے اور اب پچیس سال کے قریب عرصہ گزرا ہے کہ خدا تعالیٰ کی وحی کو میں شائع کر رہا ہوں۔اگر افتراء تھا تو اس تَقَولَ کی پاداش میں ضروری نہ تھا کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کو پورا کرتا ؟ بجائے اس کے کہ وہ مجھے پکڑتا اس نے صدہا