خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 38 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 38

38 خطبہ جمعہ فرمودہ 23 جنوری 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم میں اس کے ماننے والے بھی اس کے ساتھ ہو گئے۔لیکن اس کی مقبولیت، قرآن کریم کی مقبولیت اور شریعت کی مقبولیت کے مقابلے میں کوئی بھی حیثیت نہیں رکھتی۔بلکہ اب تو بہاء اللہ کی شریعت ماننے والے اکا دُکا ادھر اُدھر نظر آتے ہیں۔ان لوگوں کی کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔اور قرآن کریم آج بھی دنیا کے ایک طبقہ کی طرف سے بڑی سوچی سمجھی سکیم کے باوجود کہ اسے بدنام کیا جائے ، استہزاء کا نشانہ بنایا جائے ، دنیا میں پھیل رہا ہے۔جماعت احمدیہ کے ذریعہ ہی لاکھوں لوگ اس کی تعلیم کے نیچے آ کر اپنی ابدی نجات کے سامان پیدا کر رہے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ لوگ جو جھوٹے ہیں فلاح نہیں پاسکتے۔تو یہ ہے ان کا فلاح پانا۔دنیاوی دولت اکٹھی ہو جانا یا ایک گروہ پیدا کر لینا کامیابی نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم کا اس کے مقابلہ پر لاکھوں گنا پھیلنا اور اس میں ترقی ہوتے چلے جانا، یہ اصل فلاح اور کامیابی ہے۔اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے انبیاء جب اس مقصد کے لئے آتے ہیں تو پھر بڑے روشن نشانات کے ساتھ آتے ہیں۔زمین و آسمان کی تائیدات ان کے ساتھ ہوتی ہیں اور یہ لوگ ہوتے ہیں جو پھر اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت سے فلاح کی طرف لے جانے والے ہوتے ہیں۔اور یہی دلیل ہے جو آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے کی سچائی کی بھی تصدیق کرتی ہے۔پس وہ لوگ جو احمدیوں کو بہائیوں کے ساتھ ملانے کی کوشش کرتے ہیں، کئی جگہ ذکر چلتا رہتا ہے۔ان کو بھی ذرا عقل کے ناخن لینے چاہئیں۔اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ معیار کے مطابق فیصلہ کریں۔پھر دیکھیں کہ کیا دونوں ایک چیز ہیں۔پھر یہ بتانے کے بعد کہ سچائی لے کے آنے والا جو روشن نشانوں اور اللہ تعالیٰ کی تائیدات کے ساتھ سچائی لے کر آتا ہے ، غلط اور جھوٹ اس کی طرف منسوب نہیں کرتا۔اور حقیقت میں وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجا ہوا ہوتا ہے۔ایک ہی مضمون کی یہ تین مختلف آیات جو میں نے پیش کیں تھیں ان میں یہی ہے کہ اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے جو غلط باتیں منسوب کرے۔اور پھر فرمایا کہ اس سے زیادہ ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو قبول نہیں کرتے۔ان میں بتایا کہ جو قبول نہیں کرتے وہ صدق کو جھٹلاتے ہیں۔دوسری آیت میں فرمایا کہ وہ حق کو جھٹلاتے ہیں۔تیسری آیت میں فرمایا وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والا اپنے پیغام اور قول میں سچا ہوتا ہے کہ یقینا وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔وہ جس پیغام کو لے کر آتا ہے وہ حق ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کا حقیقی پیغام ہوتا ہے اور خود ظاہر کر رہا ہوتا ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کا پیغام ہے اور وہ پیغام اللہ تعالیٰ کی آیات نشانات اور تائیدات لئے ہوئے ہوتا ہے۔جو آیات میں نے تلاوت کی ہیں ان میں سے تیسری آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس تائید یافتہ اور اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو ماننے والے جو تقویٰ پر چلنے والے ہیں اپنے رب سے ہر وہ چیزیں پائیں گے جو وہ چاہیں