خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 521 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 521

خطبات مسرور جلد هفتم 521 خطبہ جمعہ فرمودہ 6 نومبر 2009 چلا جارہا ہے۔علاوہ آمد پر چندے کے اور وصیت وغیرہ کے مختلف تحریکات بھی ہوتی رہتی ہیں۔ان میں سے ایک مستقل تحریک، تحریک جدید کی بھی ہے جو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کی تھی۔جب حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ تحریک کی تو اس کا بہت بڑا مقصد ہندوستان سے باہر دنیا میں تبلیغ اسلام تھا۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے بہترین نتائج نکلے اور آج احمدیت اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے 193 ممالک میں یا تو اچھی طرح قائم ہو چکی ہے یا ایسے پودے لگے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی صحت کے ساتھ پروان چڑھ رہے ہیں۔193 ممالک میں رہنے والے احمدی امت واحدہ کا نظارہ پیش کر رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جہاں جہاں بھی جماعتیں قائم ہیں مالی قربانیوں میں حصہ لیتی ہیں۔بعض تیز دوڑنے والی جماعتیں ہیں بعض آہستہ چلنے والی ہیں اور جوں جوں تربیت ہو رہی ہے بہتری آتی جارہی ہے اور قربانیاں بڑھ رہی ہیں۔آج سے چند سال پہلے مثلاً جامعہ احمدیہ صرف ربوہ میں تھا جہاں مبلغین تیار ہوتے تھے ، مربیان ہوتے تھے۔اور اس میں ہر سال زیادہ سے زیادہ تھیں پینتیس لڑکے داخل ہوتے تھے جو وقف کر کے آتے تھے۔اور اب جب سے وقف نو کے بچے جوان ہونے شروع ہوئے ہیں گزشتہ تقریباً تین سال سے جامعہ ربوہ میں ہی ہر سال 200 سے اوپر بچے داخل ہوتے ہیں۔ظاہر ہے اس کے انتظامات کے لئے اخراجات میں اضافہ بھی ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے پاکستان کی جو جماعتیں ہیں خود یہ تمام اخراجات برداشت کرتی ہیں۔اسی طرح اب یو کے، جرمنی، کینیڈا، انڈونیشیا وغیرہ میں بھی جامعات ہیں اور یہ ممالک بھی تقریباً اپنے وسائل سے اپنے جامعات کے اخراجات پورے کر رہے ہیں۔لیکن بنگلہ دیش، نائیجیریا ، گھانا ، کینیا اور بعض اور ممالک ہیں جن کے جامعہ احمدیہ کے اخراجات چلانے کے لئے مرکز سے مدد دینی پڑتی ہے۔اور اس کے علاوہ اخراجات ہوتے ہیں۔لٹریچر ہے۔جو بڑی کتب ہیں ان کی تو مرکزی طور پر اشاعت ہوتی ہے۔مساجد کی تعمیر ہے جو غریب ممالک میں مرکز کی مدد کے بغیر ممکن نہیں۔وہاں مرکز مساجد بنا کر دیتا ہے۔اسی طرح مشن ہاؤسز ہیں۔مبلغین کو بھجوانے اور ان کے الاؤنسز اور متفرق اخراجات ہیں جو مرکز کرتا ہے جس میں چندہ تحریک جدید کا بھی ایک بہت بڑا اور اہم کردار ہے۔ایک تو جیسا کہ میں نے بتایا شروع میں تحریک جدید نے اپنا کردار ادا کیا کہ ہندوستان سے باہر تبلیغ پھیلی اور باہر آنے کے بعد مزید وسعت پیدا ہوتی چلی جا رہی ہے۔پس یہ وہ کام ہیں جس میں چندہ تحریک جدید میں شامل ہونے والے ہر احمدی بڑے اور بیچے کا حصہ ہو جاتا ہے اور وہ بجا طور پر کہہ سکتا ہے کہ ہم وہ اُمت ہیں جو نیکیوں کی تلقین کرتے ہیں اور برائیوں سے روکنے والے ہیں، برائیوں سے روکنے میں حصہ لیتے ہیں۔ہر مالی قربانی کرنے والا ایک احمدی علاوہ اپنی انفرادی کوشش کے جو وہ اپنے ماحول میں نیکیوں کو پھیلانے کے لئے اور برائیوں کو روکنے کے لئے کرتا ہے اور یہی احمدیوں سے توقع کی جاتی ہے کہ کرتا ہو اور کرے۔کوئی بعید نہیں کہ ایک عام احمدی کی معمولی سی قربانی جو وہ انگلستان میں بیٹھ کر کر رہا ہے یا جرمنی میں