خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 465
465 خطبه جمعه فرموده 2 اکتوبر 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم اپنی زبان میں دعا کرو گے تو دل سے جو الفاظ نکل رہے ہوں گے اس میں اسی سے تضرع پیدا ہو گا اور وہ دل سے نکلے ہوئے الفاظ ہوں گے۔پس دعاؤں میں ایک خاص اضطراب پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور جب یہ اضطراب پیدا ہو جائے تو پھر خدا تعالیٰ اپنے بندے کے حق میں بہتر رنگ میں دعا قبول فرماتا ہے۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے کہ اَمَّنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُمْ خُلَفَاءَ الْأَرْضِ (النمل: 63 ) کون کسی بے کس کی دعا سنتا ہے ، جب وہ اس سے یعنی خدا سے دعا کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے اور وہ تم اور تمام دعا کرنے والے لوگوں کو ایک دن زمین کا وارث بنا دے گا۔پس جو دعائیں ایک خاص حالت میں اور اضطراب سے کی جائیں وہ ایک ایسا رنگ لانے والی دعائیں ہوتی ہیں جو دنیا میں انقلاب برپا کر دیا کرتی ہیں اور جن کو خدا تعالیٰ کے راستہ میں امتحانوں اور ابتلاؤں سے گزرنا پڑ رہا ہو ان سے زیادہ خدا تعالیٰ کو کون پیارا ہو سکتا ہے کہ وہ اس کے لئے ساری تکلیفیں برداشت کر رہے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ خوشخبری دی ہے کہ تم صبر اور دعا سے ان ابتلاؤں کو برداشت کرتے چلے جاؤ۔ایک دن تم ہی زمین کے وارث کئے جانے والے ہو۔پس آجکل کے یہ امتحان جن سے احمدی گزر رہے ہیں، جیسا کہ میں نے بتایا پاکستان میں خاص طور پر، یہ قربانیاں جو کر رہے ہیں یہ ضائع جانے والی نہیں ہیں۔یہ قربانیاں جو احمدی کر رہے ہیں یہ آج نہیں تو کل انشاء اللہ ایک رنگ لانے والی ہیں۔ہمارا کام یہ ہے کہ بغیر کسی شکوہ کے اللہ تعالیٰ سے مد ما نگتے ہوئے ان امتحانوں سے گزرتے چلے جائیں۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ابتلا اور امتحانوں میں سے گزرنے والے کی انتہا یہ ہے کہ جان تک کی قربانی بھی کی جاسکتی ہے۔لیکن یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر جو لوگ اپنی جانیں قربان کرتے ہیں ان کا جانیں قربان کرنا ایک عام آدمی کے قتل ہونے کی طرح قتل نہیں ہے۔اسلام کے ابتدائی دور میں تو جب جنگیں نہیں ہو رہی تھیں اس وقت بھی قربانیوں کی بے انتہاء مثالیں نظر آتی ہیں اور پھر جب دوسرا دور آیا، جب مسلمانوں پر جنگیں ٹھونسی گئیں، اس وقت بھی مومنوں کی ایسی بے شمار مثالیں ہیں جن میں جانوں کے نذرانے پیش کئے گئے اور ہر دو طرح سے جو قتل ہوئے ، مسلمانوں کے قتل ہونے والے لوگ جو تھے انہوں نے خدا تعالیٰ کے دین کی بقا کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔توحید کے قیام کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے۔اور خدا تعالیٰ نے پھر ان کی قربانیوں کو قبول فرماتے ہوئے فرمایا کہ ایسے لوگوں کو جو اپنی جانوں کے نذرانے پیش کر رہے ہیں مردہ نہ کہو وہ تو زندہ ہیں۔کیونکہ انہوں نے ایک بہت بڑے مقصد کی خاطر قربانی دی ہے۔خدا تعالیٰ کے ہاں جہاں ان جانیں قربان کرنے والوں کے اجر ہر آن بڑھتے چلے جاتے ہیں وہاں مومنین کی جماعت ان کی قربانیوں کو یاد کر کے ان کے ناموں کو زندہ