خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 399
خطبات مسرور جلد هفتم 399 خطبه جمعه فرمود : 28 اگست 2009 ہے، پاک ہے، روزے دار کے لئے دو خوشیاں ہیں جو اسے خوش کرتی ہیں۔ایک جب وہ روزہ افطار کرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور دوسرے جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے کی وجہ سے خوش ہو گا۔( صحیح بخاری کتاب الصوم۔باب هل يقول انی صائم اذاشتم حدیث نمبر 1904) پس ہمیں وہ روزے رکھنے چاہئیں جو ہمارے اس دنیا سے رخصت ہونے تک ہماری ہر حرکت وسکون ، ہمارے ہر قول و فعل کو اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ بناتے ہوئے ہمیں اللہ تعالیٰ سے ملانے والے ہوں۔ہمیں یا درکھنا چاہئے کہ ہر روزہ دار جوروزے کے تمام لوازمات پورے نہیں کرتا حدیث کے الفاظ کہ وَإِذَا لَقِيَ رَبَّهُ فَرِحَ بصَوْمِه - ( صحیح بخاری کتاب الصوم۔باب هل يقول انی صائم اذاشتم حدیث نمبر 1904) یعنی اور جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزہ کی وجہ سے خوش ہو گا اس کا مصداق نہیں بن سکتا اور اس کے بارہ میں آنحضرت ﷺ نے اندار بھی فرمایا ہوا ہے کہ صرف روزہ کافی نہیں ہے کہ روزہ رکھو گے تو اللہ تعالیٰ سے ملاقات پر خوش ہو جاؤ گے، بلکہ روزہ کی قبولیت کے لئے جو لوازمات ہیں ان کو بھی پورا کرو۔اس کے بارہ میں ایک روایت میں مزید آتا ہے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جو شخص روزے کی حالت میں جھوٹ بولنا اور اس پر عمل کرنا نہیں چھوڑتا۔اللہ تعالیٰ کو اس چیز کی قطعاً ضرورت نہیں کہ وہ اپنا کھانا پینا چھوڑ دے۔( صحیح بخاری کتاب الصوم ـ باب من لم يدع قول الزور والعمل به في الصوم حدیث نمبر (1903) پس پہلی حدیث میں برائیوں سے بچنے والے کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خبر دی گئی ہے اور اس حدیث میں یہ بتایا کہ برائیوں سے نہ بچنے والے کا روزہ ، روزہ نہیں ہوتا بلکہ فاقہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کو کسی شخص کے فاقہ زدہ رہنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔یا اس شخص کے فاقہ زدہ رہنے سے اس کی نیکیوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔پس حقیقی مومن کو اللہ تعالیٰ سے اس کے فضلوں کو مانگنے اور رمضان کی برکات سے فیضیاب ہونے کے لئے اس خاص ماحول میں ایک کوشش کی ضرورت ہے۔ماحول تو ہمارا وہی ہے جہاں اچھے لوگ بھی رہ رہے ہیں، نیکیوں پر قدم مارنے والے بھی لوگ رہ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوشاں لوگ بھی رہ رہے ہیں اور پھر برائیوں میں مبتلا لوگ بھی یہاں بس رہے ہیں۔گندگی میں ڈوبے ہوئے اور شراب اور زنا کی برائیوں میں مبتلا لوگ بھی یہاں بس رہے ہیں۔ایسے لوگ بھی ہیں جو روزہ رکھ کر خدا اور مذہب کے نام پر ایک دوسرے کا خون بھی کر رہے ہیں۔ایسے لوگ بھی ہیں جو رمضان میں احمدیوں کو تکالیف دینا اور شہید کرنا کار ثواب سمجھتے ہیں۔تو کیا یہ نیکیاں اور برائیاں کرنے والے صرف رمضان کے بابرکت مہینے کی وجہ سے برابر ہو جائیں گے۔جس طرح نیکیاں کرنے والوں کے لئے جنت کے دروازے کھولے گئے ہیں۔برائیوں میں مبتلا لوگوں کے لئے بھی جنت کے دروازے کھولے جائیں گے؟ جس طرح