خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 341 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 341

341 خطبات مسرور جلد هفتم خطبہ جمعہ فرمودہ 24 جولائی 2009 اس میں مرد بھی اور عورتیں بھی نو جوان بھی اور بوڑھے بھی سنجیدگی سے شامل ہوں اور جو بات سنیں ، جو تقریر میں سنیں انہیں اپنی زندگیوں کا حصہ بنا ئیں۔کوئی عورت کوئی مرد، کوئی نوجوان کوئی بچہ ان دنوں میں جلسے کی کارروائی کے دوران باہر پھرتا، ٹولیوں میں بیٹھا اور کھیلتا ہوا نظر نہ آئے۔عورتوں کے لئے چھوٹے بچوں کی مار کی علیحدہ ہے اس لئے کہ بچے روتے اور شور مچاتے ہیں اور دوسری بڑی عورتیں جو بغیر بچوں کے ہیں یا جن کے بچے بڑے ہو چکے ہیں وہ ڈسٹرب ہوتی ہیں۔لیکن ایسے بچے جو چھوٹے نہیں اور جنہوں نے رونے دھونے کی عمر گزار دی ہے۔سات آٹھ سال کی عمر کے ہیں۔تھوڑی بہت سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔ان کو والدین کو سمجھا کر اپنے ساتھ لانا چاہئے کہ جلسہ پر ہم جا ر ہے ہیں اور وہاں دو تین گھنٹے کا جو ایک سیشن ہوتا ہے اس میں تم نے آرام سے بیٹھنا ہے۔کئی بچے ہیں جنہیں مائیں سمجھا کے لاتی ہیں اور وہ بچے بڑے آرام سے بیٹھے ہوتے ہیں۔ان مجالس کا احترام بچپن سے ہی بچوں میں پیدا کریں اور اس کی ٹریننگ سارا سال گھروں میں دیں اور یہ دینی بھی چاہئے۔مجھے بعض دفعہ شکایات ملتی رہتی ہیں کہ سارا سال اطفال کے اور ناصرات کے جو اجلاس ہوتے ہیں ان میں بچوں کو خاموش بیٹھ کر پروگرام سننے کی طرف توجہ نہیں دلائی جاتی۔ناصرات میں تو کم ہے لیکن اطفال میں تھوڑی تھوڑی دیر بعد ( یہ شرارتی طبیعت زیادہ ہوتی ہے لڑکوں میں ) یہ باتیں پیدا ہوتی رہتی ہیں۔اگر سارا سال ماں باپ بھی اور ذیلی تنظیمیں بھی بچوں کی اس نہج سے تربیت کریں تو جلسوں میں ایسی شکایات نہ ہوں۔چھوٹے بچوں کی ایک خاصی تعداد یہاں اللہ کے فضل سے ڈیوٹی بھی دے رہی ہوتی ہے اور بڑے پیارے انداز میں ڈیوٹی دے رہے ہوتے ہیں۔لیکن ایک خاصی تعداد ایسی بھی ہے جو ڈیوٹی نہیں دیتی۔دوسرے شہروں سے آئے ہیں اور دوسرے ملکوں سے آئے ہیں۔وہ ضرور کھیل کودا اور شور شرابے کی وجہ سے جلسہ سننے والوں کو ڈسٹرب کر رہے ہوتے ہیں۔تو اس لحاظ سے بھی جلسے میں شامل ہونے والوں کا فرض ہے کہ پیار سے اپنے بچوں کی تربیت کریں اور یہ بھی ممکن ہو گا جب بچوں کو یہ احساس ہو کہ ہمارے بڑے بھی جلسے کے پروگرام غور سے سن رہے ہیں اور جلسے کے تقدس کا ان کو خیال ہے۔ہماری یہ دینی مجالس تو ایسی ہونی چاہئیں کہ بجائے اس کے کہ کارکنات ( مردوں کے جلسے میں تو نہیں ہوتا لیکن عورتوں کی مارکی میں ہوتا ہے ) یہ نوٹس لے کر کھڑی ہوں کہ خاموشی سے جلسے کی کارروائی سنیں۔آپ خود یہ۔اہتمام کر رہی ہوں کہ کسی بھی قسم کی توجہ دلانے کی ضرورت ہی نہ پڑے اور خود ہی خاموشی سے کارروائی سنیں۔پھر ایک اہم بات جس کی طرف توجہ دلانی چاہتا ہوں وہ ہے اپنے ماحول اور اردگرد پر نظر رکھنا۔جماعت کی حفاظت تو خدا تعالیٰ نے کرنی ہے اور ہمیشہ سے کرتا آ رہا ہے۔یہی ہماری تاریخ ہمیں بتاتی ہے۔اگر ہم اس سے مدد مانگتے ہوئے اس کی طرف جھکے رہیں تو جماعت سے تعلق بھی مضبوط ہوگا اور اللہ تعالیٰ کے حفاظت کے حصار میں بھی رہیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ ”میں تیرے ساتھ اور تیرے