خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 237 of 670

خطبات مسرور (جلد 7۔ 2009ء) — Page 237

237 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 مئی 2009 خطبات مسرور جلد ہفتم ہے کہ غیب میں اللہ کا خوف رکھتے ہوئے اپنے نفس کو پاک کرنے کی کوشش کرو۔پس جب اللہ تعالیٰ کا خوف ہوگا تو پھر ہی گناہوں سے نفرت بھی پیدا ہوگی اور تب ہی خدا تعالیٰ کی نظر میں انسان پاک ٹھہرتا ہے پھر جب ایسی حالت پیدا ہوتی ہے ( اور یہ بھی خدا تعالیٰ کے علم میں ہے ) اور جب اللہ تعالیٰ کی نظر میں انسان پاک ٹھہرتا ہے تو اصل عزت کا مقام جو ہے، وہی ہے جس میں خدا تعالیٰ انسان کو پاک ٹھہرا کر داخل کرتا ہے نہ کہ وہ عزت اصل عزت ہے جہاں انسان خود اپنی خود پسندی اور بڑائی کے اظہار کر کے اپنی نیکیاں جتاتے ہوئے اپنے آپ کو پاک ٹھہرائے۔ایک جگہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں فرمایا کہ مومن کی یہ نشانی ہے کہ وَالَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبْئِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَإِذَا مَا غَضِبُوا هُمُ يَغْفِرُونَ (الشوری: 38) اور جو بڑے گنا ہوں اور بے حیائی کی باتوں سے اجتناب کرتے ہیں اور جب وہ غضبناک ہوں تو بخشش سے کام لیتے ہیں۔اب یہاں پھر تمام گناہوں اور اخلاقی کمزوریوں کا ذکر کیا ہے اور ان سے بچنے کی تلقین کی ہے۔لیکن ان گنا ہوں اور بے حیائیوں اور اخلاقی برائیوں کو غصے کے ساتھ ملا کر بیان کیا گیا ہے۔پس غصے کو جو لوگ معمولی خیال کرتے ہیں ان کے لئے بھی نصیحت ہے کہ یہ بڑھتے بڑھتے بڑے گناہوں کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ غصہ کوئی معمولی گناہ نہیں ہے۔اس کو اگر کنٹرول نہیں کیا جاتا اور اس کا اگر نا جائز استعمال ہو رہا ہے تو یہ بڑے گناہوں کے زمرے میں ہے۔بعض دفعہ غصہ آتا ہے لیکن انسان پھر مغلوب الغضب ہو کے کام نہیں کرتا بلکہ اس کا استعمال جائز طریقے سے ہوتا ہے تا کہ ایک دوسرے کی اصلاح ہو سکے۔اگر انسان مغلوب الغضب ہو جائے تو پھر نفس کی پاکیزگی بھی دُور ہو جاتی ہے۔اس لئے یہ نہ سمجھو کہ میں کیونکہ دوسری نیکیاں بجالا رہا ہوں اس لئے جو غصہ کا گناہ ہے اس کو میری دوسری نیکیاں ختم کر دیں گی۔اللہ تعالیٰ نے پہلے ہی فرما دیا کہ یہ زعم اپنے دل سے نکال دو۔اگر حقیقی تزکیہ چاہتے ہو تو اپنی اخلاقی حالتیں بھی درست کرو۔آئے دن یہ شکایات بھی آتی رہتی ہیں کہ غصہ کی حالت میں گھروں میں لڑائیاں ہو رہی ہیں، میاں بیوی کی لڑائیاں ہو رہی ہیں۔کبھی بیوی کو کنٹرول نہیں کبھی میاں کو کنٹرول نہیں۔معاشرے میں لڑائیاں ہو رہی ہیں۔ذرا ذرا سی بات پر لڑائیاں ہو رہی ہیں۔کھیل کے میدانوں میں لڑائیاں ہو جاتی ہیں یا اگر لڑائیاں نہیں بھی ہوتیں تو ایک دوسرے کے خلاف بعض باتوں پہ غصہ دل میں پل رہا ہوتا ہے اور پھر اس سے کینے پیدا ہور ہے ہوتے ہیں اور ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہوتی ہے۔تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ بھی ایک بہت بڑا گناہ ہے اور تمہارے نفس کو پاک کرنے کے راستے میں روک ہے اور جب یہ روک راستے میں کھڑی ہو جائے تو پھر کامیابی کی منزلیں بھی طے نہیں ہوتیں اور پھر ایسا انسان اللہ تعالیٰ کے نزدیک عزت کا مقام بھی نہیں پاتا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تو واضح فرما دیا ہے کہ میں گناہوں اور فحشاء سے بچنے والوں کو عزت دوں گا۔پس یہ وہ مقصد ہے جس کے لئے ایک مومن کو کوشش کرنی چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ کی وسیع تر بخشش سے حصہ لیتے ہوئے اس کی رضا کی جنتوں میں ہم داخل ہوسکیں۔