خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 57 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 57

خطبات مسرور جلد ششم 57 57 6 خطبہ جمعہ فرمودہ 8 فروری 2008 فرموده مورخہ 8 فروری 2008 ء بمطابق 8 تبلیغ 1387 ہجری کشی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن (برطانیہ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ابتلاؤں میں ہی دعاؤں کے عجیب وغریب خواص اور اثر ظاہر ہوتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ ہمارا خدا تو دعاؤں ہی سے پہچانا جاتا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 147۔جدید ایڈیشن) یہ وہ بنیادی چیز ہے جس کی گہرائی کو ایک حقیقی مومن کو سمجھنا چاہئے اور سمجھتا ہے۔دعاؤں کے بغیر اور اللہ تعالی کے آگے جھکے بغیر تو ایمان لانے کا دعوی ہی بے معنی ہے۔یہ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: ”ہمارا خدا تو دعاؤں سے ہی پہچانا جاتا ہے۔یہی آج ہر احمدی کا خاصہ ہے اور ہونا چاہئے۔نہ صرف ابتلاؤں میں بلکہ سہولت اور آسائش اور امن کے دنوں میں بھی اپنے رب کے آگے جھکنے والے اور اس کو سب طاقتوں کا سر چشمہ سمجھتے ہوئے اس کا حقیقی خوف دل میں رکھنے والے ہی حقیقی مومن ہیں اور جب ابتلاؤں کے دور آتے ہیں تو پہلے سے بڑھ کر مومن اُس پر ایمان مضبوط کرتے ہیں اور نہ صرف ایمان مضبوط کرتے ہیں بلکہ چھلانگیں مارتے ہوئے ایمان میں ترقی کرتے ہیں۔اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش میں وہ پہلے سے بڑھ کر تیز ہو جاتے ہیں۔عارضی ابتلاء اور وکیں ان کے قدم ڈگمگانے والی نہیں ہوتیں۔بلکہ ان ابتلاؤں اور روکوں کی وجہ سے وہ اور زیادہ عبادت میں بڑھتے ہیں۔پس یہ انقلاب ہے جو ایک احمدی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیدا کیا ہے اور جب تک ہم مستقل مزاجی کے ساتھ اس حالت پر قائم رہیں گے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے والے بنتے چلے جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں: ” دعا اور اس کی قبولیت کے زمانہ کے درمیانی اوقات میں بسا اوقات ابتلاء پر ابتلاء آتے ہیں اور ایسے ایسے ابتلاء بھی آجاتے ہیں جو کمر توڑ دیتے ہیں۔مگر مستقل مزاج، سعید الفطرت ان ابتلاؤں اور مشکلات میں بھی اپنے رب کی عنایتوں کی خوشبو سونگھتا ہے اور فراست کی نظر سے دیکھتا ہے کہ اس کے بعد نصرت آتی ہے۔ان ابتلاؤں کے آنے میں ایک ستر یہ بھی ہوتا ہے کہ دعا کے لئے جوش بڑھتا ہے کیونکہ جس جس قدر اضطرار اور اضطراب بڑھتا جاوے گا اسی قدر روح میں گدازش ہوتی جائے گی۔اور یہ دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہیں۔پس بھی گھبرانا نہیں چاہئے اور بے صبری اور بے قراری سے اپنے اللہ پر بدظن نہیں ہونا چاہئے۔یہ بھی بھی خیال کرنا نہ چاہئے کہ میری دعا قبول نہ ہوگی یا نہیں ہوتی ، ایسا و ہم اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے انکار ہو جاتا ہے کہ وہ دعائیں قبول فرمانے والا ہے۔“ ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 708-707 - جدید ایڈیشن) جیسا کہ میں نے کہا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباس سے ہم نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جھکنا ایک احمدی کا خاصہ ہے اور ہونا چاہئے جس میں عارضی روکیں اور ابتلاء مزید نکھار پیدا کرتے ہیں۔اس حوالے سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آجکل دنیا کے بعض ممالک میں لگتا ہے احمدیوں کو تنگ کرنے کی ایک مہم شروع ہے۔جس میں براہ راست یا بالواسطہ تنگ کرنے کے منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔یہ حسد کی آگ ہے جس نے ان لوگوں، گروپوں یا حکومتوں کو ایسے قدم اٹھانے پر لگایا ہوا ہے اور یہ حسد کی آگ بھی مسیح موعود کے زمانے میں اپنوں کی