خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 400
400 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 ستمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم بھی رہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کو ماننے کے بعد پھر دو عملی نہیں ہو سکتی۔ہمیں اُس اُسوہ کو اختیار کرنے کی کوشش کرنی چاہئے جو صحابہ نے قائم فرمایا تھا۔اگر کاروبار کیا بھی تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کو نہیں بھولے۔آنحضرت می کے کئی صحابہ تھے جنہوں نے چند سکوں سے کاروبار شروع کیا اور کروڑوں میں لے گئے۔اس لئے کہ ایمانداری، فراست اور اللہ تعالیٰ کا فضل اُن کو اس مقام پر لے گیا۔ان کی ایمانداری تھی ، فراست تھی، اللہ تعالیٰ کا فضل ان کے شامل حال رہا اور وہ اس مقام پر پہنچے۔پس ہمیشہ ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کو جذب کرنے کی کوشش کرنی ہے۔اپنی عبادتوں کے معیار اونچے سے اونچے کرنے کی کوشش کرنی ہے تا کہ ہمیشہ فلاح پانے والے رہیں۔اس زمانہ کے دل بہلاوے اور تجارتیں کیونکہ ہماری زندگیوں پر زیادہ اثر انداز ہوئی تھیں اس لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں توجہ دلائی ہے کہ خَيْرُ الرَّازِقِینَ خدا کی ذات ہے۔ہر خیر اس کی طرف سے ملتی ہے۔کارو باری فائدے اور اس بارہ میں وقت پر اور صحیح فیصلے کی توفیق بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ملتی ہے۔کئی لوگوں کے بڑے بڑے کاروبار ہیں۔صحیح فیصلے نہ ہونے کی وجہ سے یا اور وجوہات کی وجہ سے دیوالیہ ہو جاتے ہیں۔آج کل جودنیا کی معاشی حالت ہے اس میں بھی دیکھ لیں بڑے بڑے بینک بھی دیوالیہ ہورہے ہیں۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور ذکر کے مقابلے میں ہر دوسری چیز کو نیچی سمجھو اللہ کا فضل ہو تو سب کچھ ملتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو توفیق دے کہ ہم تقویٰ پر چلتے ہوئے نہ صرف اس جمعہ کو بلکہ ہر جمعہ کو اہتمام کے ساتھ ادا کرنے والے بنیں۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے کہ جس نے تساہل کرتے ہوئے تین جمعے لگا تار چھوڑے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔(ابوداؤد - کتاب الصلوة - باب التشديد فی ترک الجمعة - حدیث نمبر 1052) اللہ تعالیٰ ہمیں شیطان کے حملوں سے محفوظ رکھتے ہوئے ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے اور کبھی ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں سے دور ہٹنے والے نہ ہوں۔آمین۔الفضل انٹرنیشنل جلد 15 شماره 42 مورخہ 17 اکتوبر تا 23 اکتوبر 2008، صفحہ 5 تا 7)