خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 389 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 389

خطبات مسرور جلد ششم 389 خطبہ جمعہ فرمودہ 19 ستمبر 2008 اور جب یہ ساری باتیں جمع ہو جائیں تو ایسے لوگوں کو آنحضرت ﷺ نے آگ سے بچنے کی خوشخبری دی ہے اور مسلسل نیکیوں پر قائم رہنے اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے اور اپنے خلاف ہونے والے ظلموں پر صبر کرنے کی وجہ سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جنت کی خوشخبری دی ہے۔عموماً رمضان میں پاکستان میں بھی اور بعض دوسرے ممالک میں بھی جہاں ان نام نہاد علماء نے اپنا اثر قائم کر کے مسلمانوں کو غلط راستے پر ڈالا ہوا ہے احمدیوں پر ظلم اور زیادتی کے نئے سے نئے طریقے اپنائے جاتے ہیں جو ہمیں نظر آتے ہیں۔جیسا کہ میں نے گزشتہ خطبے میں بھی کہا تھا احمدیوں کو جذباتی، روحانی، مالی اور جانی تکلیفیں اور نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے۔لیکن ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہی تعلیم دی ہے کہ صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا۔اور پھر رمضان میں تو خاص طور پر اُس مومن کو جو نیک اعمال بجالا رہا ہے اور صبر کا مظاہرہ کر رہا ہے اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول جنت کی بشارت دے رہے ہیں۔اس لئے اس تربیتی مہینے میں تو خاص طور پر ہر احمدی کو دعاؤں ، استغفار، نوافل اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا اور جنت کو اپنے قریب تر لانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اور ایسے ہی اعمال کرنے والے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے عمل کرتے ہیں انہیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَجَزَاهُمْ بِمَا صَبَرُوْا جَنَّةَ وَحَرِيْرًا (الدھر: (13) اور ان کے نیکیوں پر قائم رہنے اور صبر کرنے کی وجہ سے انہیں جنت اور ریشم عطا کیا جائے گا۔پس آج اگر احمدیوں پر ظلم ہورہے ہیں تو ہم میں سے ہر ایک جانتا ہے کہ یہ ظلم ہم پر اللہ تعالیٰ کے حکم پر عمل کرنے کی وجہ سے ہو رہا ہے کہ آنے والے امام کو ہم نے مان لیا، اس وجہ سے ہم پر ظلم ہورہا ہے تو دشمن کو یہ ظلم کرنے دیں اور صبر سے کام لیں کہ اس سے ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں گے۔ظالموں کو جو اللہ تعالیٰ نے انذار کیا ہے اس سے قرآن کریم بھرا پڑا ہے۔یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ وہ ان آگ لگانے والوں سے کیا سلوک کرے گا۔لیکن ان دنوں میں ہمارا یہ بھی فرض بنتا ہے کہ انسانیت کے لئے بالعموم اور اُمت مسلمہ کے لئے بالخصوص رحم کی دعا کریں۔بعض احمدی سمجھتے ہیں کہ ان ظالموں کے بعد دعا نہیں ہوسکتی۔لیکن ہمیشہ ہمیں یا درکھنا چاہئے کہ مسلمانوں کی اکثریت گو دین کے معاملے میں پُر جوش تو ہے لیکن دین کے علم سے بالکل نا واقف ہے یا معمولی علم رکھنے والے ہیں یا علماء سے خوفزدہ ہیں۔اور یہ جو دین کے نام نہاد عالم ہیں یہ لوگ ہیں جو انہیں غلط راستوں پر ڈال رہے ہیں۔پس رمضان کے اس آخری عشرے میں صبر کا انتہائی مظاہرہ کرتے ہوئے، دعاؤں اور نوافل پر زور دیتے ہوئے ، استغفار اور تو بہ کرتے ہوئے ، نیک اعمال بجالاتے ہوئے ، تقویٰ پر ہمیشہ چلنے کا عہد کرتے ہوئے ، آگ سے دور ہونے والے اور جنت کو حاصل کرنے والے بننے کی کوشش کریں۔ہمیں اس رمضان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان لوگوں میں شامل ہونے کی کوشش کرنی چاہئے جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَأُزُ لِفَتِ الْجَنَّةُ لِلْمُتَّقِينَ (الشعراء:91) اور جنت متقیوں کے قریب کر دی جائے گی۔دُور نہیں ہوگی۔هَذَا مَا تُوْعَدُونَ لِكُلِّ اَوَّابِ حَفِيْظ ( سورة ق : 33) یعنی یہ ہے وہ جس کا تم وعدہ دیئے گئے