خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 385 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 385

385 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 19 ستمبر 2008 ادا کر کے پھر سارا سال بھول جائیں کہ رمضان میں کیا کیا تھا۔تو پھر تو یہ مغفرت کا عشرہ نہیں بن سکتا۔پس اس مہینے اور اس عشرے سے ہم تبھی فائدہ اٹھا سکتے ہیں تبھی کامیاب ہو کر گزر سکتے ہیں جب ہم یہ عہد کریں اور کوشش کریں کہ جو گزشتہ گناہ اور غلطیاں ہوئی ہیں ان کا ہم نے اعادہ نہیں کرنا۔تو یہی حقیقی استغفار ہے اور وہ تو بہ ہے جو اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتا ہے۔استغفار اور تو به عموماً دولفظ استعمال ہوتے ہیں۔ان میں فرق کیا ہے؟ یہ تھوڑا سا بتا دیتا ہوں۔جیسا کہ ہم میں سے ہر ایک قرآن کریم پڑھتا ہے، جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ لفظ استعمال فرمائے ہیں، جیسا کہ فرماتا ہے وَاَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّكُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَيْه (هود :4) اور تم اپنے رب سے استغفار کرو۔پھر اس کی طرف تو بہ کرتے ہوئے جھکو اس ضمن میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : 'یا درکھو کہ دو چیزیں اس امت کو عطا فرمائی گئی ہیں۔ایک قوت حاصل کرنے کے واسطے۔دوسری حاصل کردہ قوت کو عملی طور پر دکھانے کے لئے“۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 348 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) یعنی استغفار وہ ہتھیار ہے جس سے شیطان کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور تو بہ اس ہتھیار کا استعمال کرنا ہے۔یعنی ان عملی قوتوں کا اظہار جس سے شیطان دُور رہے۔ہمارا نفس کبھی مغلوب نہ ہو اور اس کے لئے وہ نیکیاں اور اعمال کرنے کی مسلسل کوشش ضروری ہے جن کے کرنے کا ہمیں خدا تعالیٰ نے حکم دیا ہے، ورنہ استغفار نتیجہ خیز نہیں ہوسکتا۔بخشش کا حصول ممکن نہیں۔ایک روزہ دار نمازیں بھی پڑھ رہا ہے، نوافل بھی ادا کر رہا ہے ، قرآن کریم کی تلاوت بھی کر رہا ہے اگر ممکن ہو اور وقت ہو تو درس بھی سن لیتا ہے۔لیکن اگر اُن احکامات پر عمل نہیں کر رہا جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بھائیوں کے حقوق کے بارے میں قرآن کریم میں بیان فرمائے ہیں تو یہ حقیقی توبہ استغفار نہیں ہے ، روزوں سے حقیقی فیض پانے کی کوشش نہیں ہے۔حقیقی فائدہ تبھی ہو گا جب استغفار سے جو قوت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اس کا اللہ تعالیٰ کے لئے خالص ہوتے ہوئے استعمال کیا جائے۔اللہ تعالیٰ نے گناہوں کو ڈھانکنے کی جو قوت عطا کی ہے ، جن گناہوں کو دُور کرنے کی توفیق بخشی ہے، استغفار کرتے ہوئے اپنے دل کو ایک انسان نے گناہوں سے جو خالی کیا ہے تو فوری طور پر انہیں نیکیوں سے بھرنے کی کوشش کی جائے۔اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کی جائیں۔ورنہ اگر دل کا برتن نیکیوں سے خالی رہا تو شیطان پھر اسے انہیں غلاظتوں سے دوبارہ بھر دے گا۔اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ يَأَيُّهَا الَّذِيْنَ امَنُوْا تُوْبُوْا إِلَى اللهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا (التحریم: 9) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف خالص توبہ کرتے ہوئے جھکو۔پس وہی استغفار دائمی بخشش کا سامان کرتا ہے جس کے ساتھ خالص تو بہ ہو، جس کو پھر انسان نیکیوں سے بھرتا چلا جائے۔حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا ہمیشہ خیال رکھے۔ایک مسلسل کوشش کرے۔