خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 360
360 خطبات مسرور جلد ششم خطبہ جمعہ فرمودہ 5 ستمبر 2008 کے پیچھے آنا ہے جو روزے کی ڈھال ہے اور جو دراصل خدا تعالیٰ کی ڈھال ہے اس لئے خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ روزے کی جزا میں خود ہوں۔یہ حدیث قدسی ہے یعنی وہ حدیث جو آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حوالے سے بیان فرمائی ہے۔پس اس ڈھال کا فائدہ تبھی ہو گا جب روزہ میں نفس کا مکمل محاسبہ کرتے ہوئے کانوں کو بھی لغو اور بری باتوں سے انسان محفوظ رکھے۔ہر ایسی مجلس سے اپنے آپ کو بچائے جہاں دین کے ساتھ ہنسی اور ٹھٹھا ہورہاہو، دین کی باتوں کا مذاق اڑایا جا رہا ہو۔جہاں ایسی مجالس ہوں جن میں دوسروں کی ، اپنے بھائیوں کی چغلیاں اور بدخوئیاں ہورہی ہوں۔اپنی آنکھ کو ہرایسی چیز کے دیکھنے سے محفوظ رکھے جس سے خدا تعالیٰ نے منع فرمایا ہے۔مثلاً مردوں کو غض بصر کا حکم ہے۔یعنی عورتوں کو نہ دیکھنے کا حکم ہے۔عورتوں کو مردوں کو نہ دیکھنے کا حکم ہے۔فضول اور لغوفلمیں جو آج کل وقت گزاری کے لئے دیکھی جاتی ہیں ان سے بچنے کا حکم ہے۔ان دنوں میں یعنی روزے کے دنوں میں رمضان کے مہینے میں یہ عادت پڑے گی تو امید کی جاسکتی ہے کہ آئندہ زندگی میں بھی روزوں سے فیض پانے والے ان چیزوں سے بھی بچتے رہیں گے۔پھر زبان کا روزہ ہے۔زبان کا روزہ یہ ہے کہ زبان سے کسی کو بُرے الفاظ نہ کہوں کسی کو دکھ نہ دو تبھی تو دوسری جگہ ایک حدیث میں یہ حکم بھی ہے کہ اگر تمہیں روزے کی حالت میں کوئی برا بھلا کہے یا سخت الفاظ سے مخاطب ہو یا لڑائی کرنے کی کوشش کرے تو اِنِّی صَائِمٌ کہہ کے چپ ہو جاؤ اور جواب نہ دو۔( بخاری کتاب الصوم باب هل يقول اني صائم اذاشتم حدیث 1904) یعنی میں تو روزہ دار ہوں ، تم جو بھی کہو ، میں تو کیونکہ اس تربیتی کورس میں سے گزر رہا ہوں جہاں ہر عضو کا روزہ ہے اور میں تمہیں جواب دے کر اپنا روزہ مکروہ نہیں کرنا چاہتا۔اسی طرح ہاتھ کا روزہ ہے، کوئی غلط کام ہاتھ سے نہ کرو۔تقویٰ تو یہ ہے کہ کسی دوسرے کے لئے بھی کوئی ایسا کام نہ کرو جس سے خدا تعالیٰ نے منع فرمایا ہو، یا غلط کام ہو، یا اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ نے غلط کہا ہو۔اب اگر کوئی سور نہ بھی کھا تا ہو لیکن دوسرے کوکھلاتا ہے تو یہ نافرمانی ہے اور غلط کام ہے۔شراب نہیں بھی پیتا لیکن دوسرے کو پلاتا ہے تو یہ بھی گناہ ہے۔آنحضرت ﷺ نے تو پلانے والے پر بھی لعنت بھیجی ہے۔پس روزہ ڈھال اُس وقت بنے گا، اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے والا انسان اس وقت ہوگا، جب ان پابندیوں کو بھی اپنے اوپر لاگو کرے گا جو خدا تعالیٰ نے ایک مومن پر روزہ کی حالت میں لگائی ہیں۔وہ ٹریننگ حاصل کرے گا جس کی وجہ سے ڈھال کا صحیح استعمال آئے گا۔ورنہ روزہ رکھنا تو کوئی فائدہ نہیں دیتا۔یہ تو خود کو بھی دھوکہ دینے والی بات ہوگی اور خدا تعالیٰ کو بھی۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اگر تمام لوازمات کے ساتھ روزہ نہیں رکھا جاتا ، تمام ان پابندیوں کا خیال نہیں