خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 350
350 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده 29 اگست 2008 مردوں میں ایک دوست جو غالباً یونان کے رہنے والے تھے وہ کہنے لگے کہ میں بھی جماعت سے رابطے میں ہوں اور لٹریچر بھی پڑھا ہے اور میرے پوچھنے پر کہ کس چیز نے انہیں احمدیت کے زیادہ قریب کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ایک احمدی دوست نے انہیں اسلامی اصول کی فلاسفی پڑھنے کو دی جس کو پڑھنے کے بعد اسلام کی مکمل تصویر اور تعلیم جو ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے تھی وہ میرے سامنے آگئی۔اور بڑے جذباتی انداز میں کہنے لگے کہ آج آپ سے ملاقات کے بعد میں نے احمدی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔میں نے پوچھا کہ بیعت فارم ابھی بھرنا ہے یا بعد میں۔تو انہوں نے فوراً جواب دیا کہ ابھی اور اسی وقت میری بیعت لیں۔چنانچہ وہاں جو جرمن اور پاکستانی لوگوں کی مجلس تھی جس میں اکثریت تو احمدیوں کی تھی بلکہ سارے احمدی تھے وہاں ان کی بیعت بھی لی۔وہاں ایک نوجوان لڑکا بھی تھا جس نے بیعت میں شمولیت کی کسی پاکستانی لڑکے کا دوست تھا اور لباس وغیرہ سے احمدی لگتا تھا۔شاید اس سے مانگ کے شلوار قمیص پہن کر جلسہ میں آیا تھا۔میرے پاس آیا کہ میں بھی احمدی ہونا چاہتا ہوں۔میں نے اسے کہا کہ تم تو شکل سے یا لباس سے کم از کم احمدی لگتے ہو۔تو کہنے لگا کہ نہیں میں عیسائی ہوں۔اب میں آج احمدی ہونا چاہتا ہوں۔میں نے کہا بیعت تو تم کر چکے ہو۔مجلس میں بیٹھا ہوا تھا۔لیکن میں نے اسے کہا کہ ابھی تمہاری عمر چھوٹی ہے۔سولہ سترہ سال کا نو جوان تھا۔تمہارے والدین تمہارے بیعت کرنے کو بُرا نہ سمجھیں۔سوچ لو، دیکھ لو۔بعد میں اپنے گھر میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔کہنے لگا جو بھی ہو، ہمیں حق کی تلاش میں ہوں اور احمدیت کو اچھی طرح سے جانتا ہوں۔اور آج میں نے بالکل اچھی طرح سب کچھ دیکھ لیا ہے اور میں احمدی ہوں۔بیعت کے وقت بھی وہاں بڑا جذباتی ماحول تھا۔وہ یونانی دوست جنہوں نے بیعت کی اور دوسرے لوگ بھی ہچکیوں کے ساتھ روتے ہوئے بیعت کے الفاظ دہرا رہے تھے۔بہر حال ان نو جوانوں تک جو آج کل یورپ میں بسنے والے ہیں اگر صحیح رنگ میں احمدیت کا پیغام پہنچ جائے تو یہ نوجوان جو ان ملکوں میں ہیں، ان میں ایک بے سکونی کی کیفت ہے جیسا کہ میں نے جلسہ کی اپنی تقریر میں بھی ذکر کیا تھا، سکون کی تلاش میں وہ ضرور احمدیت کی آغوش میں آئیں گے بشرطیکہ پیغام انہیں صحیح طور پر پہنچا ہو۔پس ہمیں بھی اپنی حالتوں کی طرف توجہ دینی چاہئے تا کہ ان لوگوں کے لئے عملی نمونہ بن سکیں اور اسی طرح تبلیغ کی طرف بھی توجہ ہونی چاہئے تا کہ دنیا کو خدا کے قریب لا کر حقیقی سکون مہیا کرنے والے بن سکیں۔ہرسعید فطرت جس کو حق کی تلاش ہے اگر اسے صحیح رنگ میں پیغام پہنچ جائے یاوہ عملی نمونہ دیکھ لے تو ضرور اس کو احمدیت کی طرف توجہ ہوگی۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ۔ہے ہمارا کام آج ہر طرف آواز دینا جس کی فطرت نیک ہے وہ آئے گا انجام کار