خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 344
خطبات مسرور جلد ششم 344 خطبه جمعه فرمود 220 اگست 2008 مقررین کی زبان اور علم میں بھی برکت ڈالے کہ وہ ان مضامین کا حق ادا کرنے والے ہوں اور حق ادا کرتے ہوئے آپ کے سامنے اپنے مضمون کو پیش کر سکیں اور سننے والوں کو بھی توفیق عطا فرمائے کہ وہ جو کچھ سنیں اس سے نہ صرف علمی و ذہنی حظ اٹھانے والے ہوں بلکہ روحانی فیض پاتے ہوئے اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے والے بھی ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ خوش قسمت وہ شخص نہیں ہے جس کو دنیا کی دولت ملے اور وہ اس دولت کے ذریعہ ہزاروں آفتوں اور مصیبتوں کا مورد بن جائے بلکہ خوش قسمت وہ ہے جس کو ایمان کی دولت ملے اور وہ خدا کی ناراضگی اور غضب سے ڈرتا رہے اور ہمیشہ اپنے آپ کو نفس اور شیطان کے حملوں سے بچاتا رہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی رضا کو وہ اس طرح پر حاصل کرے گا۔مگر یاد رکھو کہ یہ بات یونہی حاصل نہیں ہوسکتی۔اس کے لئے ضروری ہے کہ تم نمازوں میں دعائیں کرو کہ خدا تعالیٰ تم سے راضی ہو جاوے اور وہ تمہیں تو فیق اور قوت عطا فرمائے کہ تم گناہ آلود زندگی سے نجات پاؤ۔کیونکہ گناہ سے بچنا اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اس کی توفیق شامل حال نہ ہو اور اس کا فضل عطا نہ ہو۔اور یہ توفیق اور فضل دعا سے ملتا ہے۔اس واسطے نمازوں میں دعا کرتے رہو کہ اے اللہ ہم کو ان تمام کاموں سے جو گناہ کہلاتے ہیں اور جو تیری مرضی اور ہدایت کے خلاف ہیں ، بچا۔اور ہر قسم کے دکھ اور مصیبت اور بلا سے جوان گناہوں کا نتیجہ ہے، بچا۔اور سچے ایمان پر قائم رکھے۔اور پھر گناہوں کی قسمیں بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ ” بہت سے گناہ اخلاقی ہوتے ہیں ، جیسے غصہ، غضب، کیند، جوش، ریا، تکبر، حسد وغیرہ۔یہ سب بداخلاقیاں ہیں جو انسان کو جہنم تک پہنچا دیتی ہیں“۔( ملفوظات جلد نمبر 3 صفحه 609 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ) پس ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ صرف اس بات پر ناز نہ ہو کہ ہم بڑے گناہ نہیں کرتے بلکہ معمولی بداخلاقیاں بھی گناہ ہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ ان گناہوں سے بچو بلکہ ایک مومن کے لئے صرف اتنا ہی کافی نہیں بلکہ قرآن کریم کے مطابق یہ حکم ہے، یہ کام ہے کہ نہ صرف گناہوں سے بچو بلکہ نیکیوں میں بڑھنے کی بھی کوشش کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : ” انسان کو چاہئے کہ گناہوں سے بچ کر نیکی کرے اور اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کرے۔جب وہ گناہوں سے بچے گا اور خدا کی عبادت کرے گا تو اس کا دل برکت سے بھر جائے گا“۔( ملفوظات جلد نمبر 3 صفحہ 610 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ ) اور یہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ارشاد۔اگر یہ ہو جائے تو یہی ایک انسانی زندگی کا مقصد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے اور اس عبادت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کا دل برکتوں سے بھر دے۔اللہ کرے کہ اس جلسہ میں ہم میں سے ہر ایک اس مقصد کو پانے والا ہو۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی جو بارش جماعت پر ہورہی ہے اور حضرت مسیح موعود