خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 231 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 231

خطبات مسرور جلد ششم 231 خطبه جمعه فرموده 13 جون 2008 باعث بنتے ہیں اور جب مومن ان فضلوں کو دیکھتا ہے تو شکر گزاری میں بڑھتا ہے اور یہ بات اس کے ایمان میں اضافہ کا باعث بنتی ہے۔اس کے تقویٰ میں اضافہ کا باعث بنتی ہے اور بنی چاہئے۔جب ایک مومن ایمان اور تقویٰ اور شکر گزاری میں بڑھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے مزید نعمتوں سے نوازتا ہے۔اس کے پھلوں میں مزید برکت پڑتی ہے۔اس کے رزق کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مزید بڑھاتا ہے۔یہ سلوک اللہ تعالیٰ انہی سے فرماتا ہے جو ایمان میں بڑھے ہوئے ہیں یا بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔تو یہ رزق کا اضافہ کوئی اتفاقی حادثہ نہیں ہے کہ کسی نے لکھا کہ میرے رزق میں غیر معمولی طور پر اضافہ ہو گیا۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے مطابق ہے کہ لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَا زِيْدَنَّكُمْ (ابراہیم : 8) یعنی اگر تم شکر گزار بنو گے تو میں تمہیں اور بھی زیادہ دوں گا۔ایک غیر مومن کے لئے تو کہا جا سکتا ہے کہ قانون قدرت کے تحت اس کی محنت کو اللہ تعالیٰ نے پھل لگایا لیکن ایک مومن کے لئے اس سے زائد چیز بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی شکر گزاری اور ایمان اور تقویٰ میں بڑھنے کے ساتھ جب محنت ہو تو کئی گنا زیادہ پھل لگتا ہے اور پھر صرف محنت پر ہی منحصر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ پھر مومن کو اگر اس کی محنت میں کوئی کمی رہ بھی گئی ہو تو اپنے فضل سے اس کمی کو پورا کرتے ہوئے زائد بھی عطا فرماتا ہے یا اس کمی کو پورا فرما تا ہے۔بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اگر اُس کا خدا تعالیٰ پر ایمان ہے تو خدائے تعالیٰ رزاق ہے۔اس کا وعدہ ہے کہ جو تقویٰ اختیار کرتا ہے اس کا ذمہ وار میں ہوں۔پس یہ ہے اس خدا کا اپنے بندوں سے سلوک جور زاق ہے کہ تھوڑی محنت میں بھی برکت ڈال دیتا ہے۔یا بعض دفعہ غیر مومن کو یہ بتانے کے لئے مومن کی انفرادیت قائم کرنے کے لئے ، ایک جیسی محنت کے باوجود مومن کے کام میں برکت ڈال دیتا ہے۔میں ذاتی طور پر بھی اس بات کا تجربہ رکھتا ہوں اور کئی احمدی بھی مجھے لکھتے ہیں کہ ہماری فصل ہمارے غیر از جماعت ہمسائے سے زیادہ نکلتی ہے تو وہ بڑے حیران ہو کر پوچھتے ہیں کہ تم نے کیا چیز ہمارے سے زائد کی ہے جو تمہاری فصل اچھی ہوگئی۔تو یہی لکھنے والے لکھتے ہیں کہ ہمارا جواب یہی ہوتا ہے کہ جو 1/10 یا 1/16 ہم نے اس فصل کا خدا کی راہ میں دینا ہے وہ تمہارے سے زائد ہے، جس کی وجہ سے اللہ تعالی نے برکت ڈال دی۔بلکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَلْ لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ (الطلاق: 3-4 ) یعنی اور جو کوئی اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے، اللہ اس کے لئے کوئی نہ کوئی راستہ نکال دے گا اور اسے وہاں سے رزق دے گا جہاں سے رزق آنے کا اسے خیال بھی نہیں ہو گا۔یہ معجزات جو ہوتے ہیں، یہ غیر معمولی فضل جو ہوتے ہیں اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے ایک شرط رکھی ہے۔اگر اللہ تعالیٰ نے صفت رزاق کا کوئی غیر معمولی اظہار کرنا ہے تو بندے کو بھی تو غیر معمولی تعلق میں بڑھنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر اللہ تعالیٰ اپنے ولی ہونے کا ثبوت دیتا ہے تو بندہ بھی تو اپنی بندگی کے حق ادا کرنے کی کوشش کرنے والا ہونا چاہئے۔یہ ٹھیک ہے کہ حق تو بندگی کا بھی ادا نہیں ہو سکتا۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور احسانوں کا شکر کرتے انسان اگر