خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 3
خطبات مسرور جلد ششم 3 خطبه جمعه فرموده 4 جنوری 2008 تو اس زمانہ کی حالت پر افسوس آتا ہے کیونکہ جان سے پیاری کوئی شے نہیں اور اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان ہی دینی پڑتی تھی۔تمہاری طرح وہ بھی بیوی اور بچے رکھتے تھے۔جان سب کو پیاری لگتی ہے مگر وہ ہمیشہ اس بات پر حریص رہتے تھے کہ موقع ملے تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان قربان کر دیں“۔( تفسیر حضرت مسیح موعود علیہ السلام جلد دوم - سورۃ آل عمران زیر آیت 93 صفحہ 130-131) پھر آپ فرماتے ہیں: ”خدا کی رضا کوتم کسی طرح پانہیں سکتے جب تک تم اپنی رضا چھوڑ کر اپنی لذات چھوڑ کر، اپنی عزت چھوڑ کر، اپنا مال چھوڑ کر، اپنی جان چھوڑ کر اس کی راہ میں وہ تلخی نہ اٹھاؤ جو موت کا نظارہ تمہارے سامنے پیش کرتی ہے۔لیکن اگر تلفنی اٹھا لو گے تو ایک پیارے بچے کی طرح خدا کی گود میں آ جاؤ گے اور تم ان راستبازوں کے وارث کئے جاؤ گے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور ہر ایک نعمت کے دروازے تم پر کھولے جائیں گے۔لیکن اگر تم اپنے نفس سے در حقیقت مرجاؤ گے تب تم خدا میں ظاہر ہو جاؤ گے“۔الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 307-308) فرمایا کہ یہ اس صورت میں ہو گا جب تم اپنے نفس سے در حقیقت مر جاؤ گے، اپنے نفس کو چھوڑ دو گے ،تب تم خدا میں ظاہر ہو جاؤ گئے اور خدا تمہارے ساتھ ہوگا اور وہ گھر با برکت ہوگا جس میں تم رہتے ہو گے۔اور ان دیواروں پر خدا کی رحمت نازل ہوگی جو تمہارے گھر کی دیوار میں ہیں۔اور وہ شہر با برکت ہوگا جہاں ایسا آدمی رہتا ہوگا۔(ايضاً) پس کتنے خوش قسمت ہیں ہم جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایسا امام عطا فرمایا جس نے ہمیں خدا سے ملنے کے راستے روشن کر کے دکھائے۔آنحضرت عمے کے غلاموں کی حقیقی روح ہم میں پیدا کی ، قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم کا فہم و ادراک ہم میں پیدا کیا، جس پر چل کر ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرتے ہیں۔جیسا کہ ہم نے دیکھا اللہ تعالیٰ نے مالی قربانی کو بھی اپنی رضا کے حصول کا ذریعہ بتایا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کی اہمیت ہم پر واضح فرمائی تا کہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو دنیا کے ہر فرد تک پہنچانے کا کام بخوبی ہو سکے اور ہر فر د جماعت اس کو بخوبی انجام دے سکے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد خلفاء بھی اس طرف جماعت کو توجہ دلاتے رہے ہیں اور دلاتے رہیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے عبادات کے ساتھ ہر قسم کی قربانیوں کا بھی ذکر ہے اور مالی قربانیاں بھی ان میں سے ایک ہیں۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن کا عرصہ خلافت تقریباً 52 سال پر پھیلا ہوا تھا، آپ نے جماعتی نظام کو مضبوط در مضبوط فرمایا۔اس کی تنظیم کی۔تربیتی تبلیغی ، روحانی، مالی پروگرام جماعت کو دیئے تا کہ حضرت