خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 95 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 95

95 خطبات مسرور جلد ششم خطبه جمعه فرموده 29 فروری 2008 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ وَنُنَزِلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِيْنَ وَلَا يَزِيدُ الظَّلِمِيْنَ إِلَّا خَسَارًا ﴾ (بنی اسرائیل : 83) اور ہم قرآن میں سے وہ نازل کرتے ہیں جو شفا ہے اور مومنوں کے لئے رحمت ہے اور وہ ظالموں کو گھاٹے کے سوا کسی چیز میں نہیں بڑھاتا۔پس یہ باتیں یعنی اسلام کی مخالف باتیں، جب ہم مخالفین اسلام اور مخالفین قرآن کے منہ سے سنتے ہیں تو یہ ہمارے ایمان میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔خدا تعالیٰ نے تو قرآن کریم میں پہلے ہی درج فرما دیا ہے۔اگر پہلے انبیاء کے ذکر میں بعض باتیں بیان کی ہیں تو اس لئے کہ یہ ان انسانوں کی فطرت ہے جو شیطانوں کے چیلے ہیں وہی اس قسم کی باتیں کرتے ہیں۔یہ ان لوگوں کی فطرت ہے جو شیطان کے چیلے بنتے ہوئے قرآن میں نقص نکالتے ہیں۔اگر کفار کے ذکر میں بیان ہے تو یہ پیشگوئی ہے کہ آئندہ بھی اس قسم کے لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو اپنی مخالفت میں اتنے اندھے ہو جائیں گے کہ بظاہر پڑھے لکھے اور سمجھے ہوئے اور ترقی یافتہ ملکوں کا شہری کہلانے کے اور مذہبی راہنما کہلانے کے باوجود، امن کے علمبر دار کہلانے کے باوجود ایسی حرکتیں ضرور کریں گے جن سے یہ ظاہر ہو جائے کہ ان کی ظاہری حالتیں محض دھوکہ ہیں۔یہ لوگ تو خود ایسے بیمار ہیں جن کی بیماریاں بڑھتی ہیں۔یہ لوگ تو ایسے ہیں جو کبھی محسن انسانیت کی لائی ہوئی تعلیم سے فیضیاب نہیں ہو سکتے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے كَمَا أَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِيْنَ الَّذِيْنَ جَعَلُوا الْقُرْآنَ عِضِيْنَ۔فَوَرَبِّكَ لَنَسْتَلَنَّهُمْ أَجْمَعِيْنَ۔عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ۔(الحجر:94-91) کہ اس عذاب سے جیسا ہم نے با ہم بٹ جانے والوں پر نازل کیا تھا۔كَمَا اَنْزَلْنَا عَلَى الْمُقْتَسِمِيْنَ۔جیسا ہم نے باہم بٹ جانے والوں پر نازل کیا تھا۔جنہوں نے قرآن کو جھوٹی باتوں کا مجموعہ قرار دیا۔فَوَرَبِّكَ لَنَسْتَلَنَّهُمْ اَجْمَعِيْن۔پس تیرے رب کی قسم ہم یقیناً ان سب سے ضرور پوچھیں گے۔عَمَّا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ۔اس کے متعلق جو وہ کیا کرتے تھے۔پس یہ اصول ہمیشہ کے لئے ہے صرف ان مکہ والوں کے لئے نہیں تھا جو آنحضرت ﷺ کو تنگ کرنے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر تھے۔یہ ہی یہی ہے تمام زمانوں کے لئے ہے۔پس آپ کو تکلیف پہنچانے والوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک بھی ہمیشہ کے لئے ہے۔کیا آج آنحضرت کی زندگی پر استہزاء کرنے والے یا قرآن کریم کی تعلیم کو نعوذ باللہ جھوٹا کہنے والے اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے بچ جائیں گے جس کا اظہار اللہ تعالیٰ نے اپنے پیاروں کی غیرت رکھتے ہوئے ہمیشہ کیا ہے اور کرتا ہے؟ آج بھی دشمنوں کے اس گروہ نے آنحضرت ﷺ کی ذات پر حملے کرنے کے لئے اپنے کام بانٹے ہوئے ہیں۔ان کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے تا کہ مختلف صورتوں میں آپ ﷺ کو اور قرآن کریم کو تضحیک کا نشانہ بنایا جائے۔کتابوں کے ذریعہ، اخباروں کے ذریعے ، ٹی وی پروگراموں کے ذریعہ ، اور اب جیسا کہ میں نے بتایا فلم کے ذریعہ سے یہ کوشش کی جا رہی ہے۔تو انہوں نے آج یہ کام تقسیم کئے ہوئے ہیں۔