خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 529 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 529

خطبات مسرور جلد ششم 529 خطبہ جمعہ فرمودہ 26 دسمبر 2008 انداز ہے قرآن کریم کا اور اگر ایک عقلمند آدمی ، ایک عقلمند انسان اس پر غور کرے تو یہ بات اس الزام کا رد ہے جو اسلام پر لگایا جاتا ہے کہ اسلام سختی سے اپنے دین کے پر چار اور اپنے احکامات کو ٹھونسنے کا حکم دیتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے یہ تو تمہارے رب کی طرف سے نصیحت ہے اور یہ تمہارے فائدے کے لئے ہے۔حضرت محمد رسول اللہ اللہ کو جتھا بنا کر طاقتور بنانے کے لئے نہیں ہے یا انسانوں کو زیر کر کے ان پر اپنی بادشاہت قائم کرنے کے لئے نہیں ہے بلکہ خالصتاً تمہارے فائدے کے لئے ہے۔ایک دوسری جگہ اللہ تعالی تبلیغ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اُدْعُ إِلَى سَبِيْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ (النحل: 126) کہ تو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ لوگوں کو اپنے رب کی طرف بلا۔پس یہ مَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ قرآن کریم کی خوبصورت تعلیم ہے جس میں صرف اور صرف انسانوں کی بھلائی اور بہتری کا ذکر ہے۔اور ایسی خوبصورت تعلیم ہے جو روحانی طور پر شفاء کے سامان پیدا کرتی ہے۔پس ہمیں اگر تبلیغ کا حکم ہے اسلام کا پیغام پہنچانے کا حکم ہے تو اس لئے نہیں کہ اپنی طاقت یا جتھہ بنائیں بلکہ اس لئے کہ اپنے دل میں دوسروں کے لئے ہمدردی کے جذبات پیدا کرتے ہوئے اور ان جذبات سے پُر ہو کر انہیں خدا تعالیٰ کے قریب لائیں۔ان کی روحانی بیماریوں کو دُور کریں۔انہیں بتائیں کہ یہ کتاب جو آنحضرت ﷺ پر اتری، اب تمہاری روحانی شفاء کا واحد ذریعہ ہے۔خدا کے لئے اسے قبول کرو اور اپنی دنیا و آخرت سنوارو۔میں نے اسلام پرتختی اور شدت پسندی کے الزام کا ذکر کیا تھا۔اگر تاریخ دیکھیں تو اسلام نے دلوں کو اس قرآنی تعلیم کے ذریعہ سے ہمیشہ جیتا ہے، ماضی میں جتنی فتوحات ہوئی ہیں اسی خوبصورتی کی وجہ سے ہوئی ہیں اور آج بھی ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے اسی طرح دل جیت رہے ہیں۔پس دنیا کو میں بتا تا ہوں کہ چند شدت پسندوں کے ناجائز عمل کی وجہ سے اسلام مخالف اور مغربی ممالک جو اسلام اور قرآنی تعلیم پر غلط الزام لگاتے ہیں انہیں بغیر سوچے سمجھے یہ الزام لگانے کی بجائے اس کی خوبصورت تعلیم کو دیکھنا چاہئے اور جیسا کہ میں نے کہا یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ پہلے سے بڑھ کر اس تعلیم سے لوگوں کو آگاہ کریں تا کہ انسانیت کی شفاء کا موجب بن سکیں اور جس ہدایت اور رحمت سے ہم فیض پا رہے ہیں اس میں دوسروں کو بھی حصہ دار بنانے والے بنیں۔یہی حقیقی ہمدردی ہے جو آج ایک احمدی کو دنیا والوں سے ہونی چاہئے۔یہاں ایک اور بات کی وضاحت کی بھی ضرورت ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَشِفَاءٌ لِمَا فِي الصُّدُورِ (یونس: 58) کی اس میں شفاء ہے ہر اس بیماری کے لئے جو ان کے سینوں میں پائی جاتی ہے۔اس پر اب تک یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ خیالات تو دماغ میں پیدا ہوتے ہیں اچھے یا برے، ان کا دل سے کیا تعلق ہے لیکن اہل دل اس بات کے ہمیشہ قائل رہے ہیں کہ دل کا روحانیت کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔اور جب قرآن کریم نے کہہ دیا تو