خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 515
515 خطبہ جمعہ فرموده 19 دسمبر 2008 خطبات مسرور جلد ششم تو یہ وہ لوگ تھے جو ہر قسم کے مخفی شرک سے بھی اپنے آپ کو بچاتے تھے اور دوسروں کو بھی خدا تعالیٰ کی ذات کی حقیقی پہچان کروا کر شرک سے بچانے والے تھے۔ان کے دل خدا تعالیٰ کی یاد پر یقین سے بھرے ہوئے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوت قدسی نے اس کو اور نکھار دیا تھا۔پس ہمیشہ یہ یا درکھنا چاہئے کہ ڈاکٹریا طبیب کا علاج بھی اس وقت فائدہ مند ہوتا ہے جب اللہ تعالیٰ جو شافی ہے اس کی بھی مرضی ہو۔پس اس کی صفت کے واسطے سے مریض کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہوتی ہے۔بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر بیماری کے لئے دوائی بھی رکھی ہے۔یہ ریسرچ کرنے والے جو مختلف بیماریوں کی نت نئی دوائیاں نکالتے ہیں تو یہ ان چیزوں سے ہی فائدہ اٹھاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں۔بے شمار جڑی بوٹیاں اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ ہیں۔بعض کیڑے مکوڑے ہیں۔بعض زہر یلے جانور ہیں جن کے زہر میں بھی اللہ تعالیٰ نے شفاء رکھی ہے۔سانپ کے زہر سے بھی دوائیاں بنتی ہیں۔وہی زہر جو اگر براہ راست سانپ کے کاٹے سے انسان کے جسم میں جائے تو موت کا سبب بن جاتا ہے لیکن وہی زہر جب دوائی کی صورت میں استعمال ہوتا ہے تو تریاق بن جاتا ہے۔پس یہ بھی ہم پر اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے علاج کے لئے دوائیں بھی مہیا فرمائی ہیں اور پھر انسان کو عقل بھی دی کہ ان کا استعمال کس طرح کرنا ہے۔قرآن کریم نے شفاء کے حوالے سے خاص طور پر شہد کا ذکر کیا ہے اور اسے شِفَاء لِلنَّاسِ کہا گیا ہے یعنی انسانوں کے لئے شفا ہے اور اس بات کو مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلمانوں نے سمجھا ہے اور جتنی ریسرچ شہد پر ہورہی ہے۔اور اس کے خواص بیان کئے جاتے ہیں اور مختلف طریقوں سے مختلف کمبینیشنز (Combinations) بنائی جاتی ہیں۔اس کی مختلف قسمیں ہیں رائل جیلی (Royal Jelly) ہے۔اس کے بھی خواص ہیں۔اس پر بیشمار ریسرچ دنیا میں اس پر ہو رہی ہے اور ہوئی بھی ہے اور ہر ایک یہ ثابت کرتا ہے کہ اس میں شفا ہے۔اور Propolis دوائی بھی اس سے بنی ہے۔اس سے تو آئٹمنٹس (Ointments) بن رہی ہیں۔یعنی ایسے زخم جو بعض دفعہ کسی بھی دوائی سے ٹھیک نہیں ہورہے تھے شہد کی آئٹمنٹ کی دوائی سے ٹھیک ہوتے رہے۔آج کل شہد کی مکھیوں کے چھتوں پر ایک خاص قسم کے کیڑے کا بھی حملہ ہو رہا ہے جس کی وجہ سے شہد پر ریسرچ کرنے والے بڑے پریشان ہیں یا پالنے والے بھی پریشان ہیں اور یہ دنیا میں بڑے وسیع پیمانے پر ہوا ہے کسی خاص ملک میں نہیں۔یہ کیڑے کا حملہ ہے جو شہد کی مکھیوں کی موت کا باعث بن جاتا ہے اور شہد کی مکھی کے چھتے میں باوجود بہت ساری حفاظتی روکیں ہوتی ہیں۔داخل ہونے سے پہلے اینٹی بایوٹک کی قسم کی ایک چیز ان کے سوراخوں میں لگی ہوتی ہے اور جن سے گزرتے ہوئے اپنے آپ کو صاف کر رہی ہوتی ہیں اس کے باوجود ان روکوں سے گزر کر یہ کیڑا حملہ کر رہا ہے اور مکھیوں کی موت کا باعث بن جاتا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اس کی وجہ سے مکھیاں پالنے والے بھی اور