خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 27 of 587

خطبات مسرور (جلد 6۔ 2008ء) — Page 27

27 خطبه جمعه فرموده 11 جنوری 2008 خطبات مسرور جلد ششم انسانی تربیت کے تمام مراتب بیان فرمائے۔وحشیوں کو انسانیت کے آداب سکھائے۔پھر انسانی صورت بنانے کے بعد اخلاق فاضلہ کا سبق دیا۔یہ قرآن نے ہی دنیا پر احسان کیا کہ طبعی حالتوں اور اخلاق فاضلہ میں فرق کر کے دکھلایا۔اور جب طبعی حالتوں سے نکال کر اخلاق فاضلہ کے محل عالی تک پہنچایا تو فقط اسی پر کفایت نہ کی بلکہ اور مرحلہ جو باقی تھا یعنی روحانی حالتوں کا مقام اس تک پہنچنے کیلئے پاک معرفت کے دروازے کھول دیئے ، طبعی حالتوں سے اخلاقی حالتوں تک پہنچایا اور جب اخلاق فاضلہ تک پہنچ گئے تو پھر روحانی مقام عطا فرمایا۔بلند کرنے کیلئے طریقے سکھلائے۔فرماتے ہیں : ” معرفت کے دروازے کھول دیئے اور نہ صرف کھول دیئے بلکہ لاکھوں انسانوں کو اس تک پہنچا بھی دیا۔پس اس طرح پر تینوں قسم کی تعلیم جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں کمال خوبی سے بیان فرمائی۔پس چونکہ وہ تمام تعلیموں کا جن پر دینی تربیت کی ضرورتوں کا مدار ہے کامل طور پر جامع ہے اس لئے یہ دعوئی اس نے کیا کہ میں نے دائرہ دینی تعلیم کو کمال تک پہنچایا۔جیسا کہ وہ فرماتا ہے اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ الْإِسْلَامَ دِينًا (المائدہ:4) یعنی آج میں نے دین تمہارا کامل کیا اور اپنی نعمت کو تم پر پورا کر دیا اور میں تمہارا دین اسلام ٹھہرا کر خوش ہوا۔یعنی دین کا انتہائی مرتبہ وہ امر ہے جو اسلام کے مفہوم میں پایا جاتا ہے یعنی یہ کہ محض خدا کے لئے ہو جانا اور اپنی نجات اپنے وجود کی قربانی سے چاہنا ، نہ اور طریق سے اور اس نیت اور اس ارادہ کو عملی طور پر دکھلا دینا۔یہ وہ نقطہ ہے جس پر تمام کمالات ختم ہوتے ہیں“۔اسلامی اصول کی فلاسفی۔روحانی خزائن جلد 10 صفحه 367-368) اور یہ وہ خوبصورت تعلیم ہے جو ہمیں قرآن کریم نے دی ہے۔پس یہ خوبصورت تعلیم جو ہے اس عظیم نبی پر اتری اور اس نے ہم تک یہ پہنچائی۔جس کا نہ سابقہ شریعت کوئی مقابلہ کر سکتی ہیں نہ آئندہ کوئی کتاب بن سکتی ہے، نہ آ سکتی ہے، نہ آئے گی۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کی تعلیم کو مجھنے اور اپنی زندگیوں پر لاگو کرنے اور پھیلانے کی توفیق عطا فرمائے۔(الفضل انٹر نیشنل جلد 15 شماره 5 یکم تا7 فروری 2008 صفحہ 9-5)